کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 139
اذان و اقامت کے مسائل اب ہم،ان شاء اﷲ،سرِ دست مختصر انداز سے اذان و اقامت کے مسائل ذکر کر رہے ہیں۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کبھی موذن موجود نہ ہو اور مسجد میں موجود لوگوں میں سے کسی کو کہا جائے کہ تم اذان دے دو تو وہ کئی بہانے بناتا ہے۔کبھی کہتا ہے کہ مجھے شرم آتی ہے اور کبھی کوئی اور بہانا بناتا ہے۔ممکن ہے کہ بعض کو اذان و اقامت کی ترتیب اور اس کے الفاظ بھی نہ آتے ہوں،جو مسلمان کے لیے بہر حال ایک عجیب بات ہے،کیونکہ اذان واقامت کے الفاظ بڑے مختصر اور آسان ہیں اور اس کا اجر و ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات میں اذان اور موذن کا جواب دینے کے بہت سے فضائل ذکر ہوئے ہیں: 1۔ چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {لَا یَسْمَعُ مَدَی صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَیْیٌٔ إِلَّا شَھِدَ لَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ}[1] ’’موذن کی آواز کو جن وانس اور جو چیز بھی سنتی ہے،وہ اس کے حق میں قیامت کے دن شہادت دے گی۔‘‘ 2۔ نسائی اور مسند احمد میں حضرت براء بن عازب اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {اَلْمُؤَذِّنُ یُغْفَرُ لَہٗ مَدٰی صَوْتِہٖ،وَیَشْھَدُ لَہٗ کُلُّ رَطْبٍ وَّیَابِسٍ}[2] ’’موذن کی مغفرت ہو جاتی ہے اور ہر خشک اور تر چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے۔‘‘ [1] مشکاۃ المصابیح (1/ 207) صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (209) [2] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (484) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (626) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (723) صحیح ابن حبان،الموارد،رقم الحدیث (292)