کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 138
آگے چل کر موصوف اور ایسے ہی شیخ محمد بن صالح العثیمین نے اپنے رسالے ’’حکم تارک الصلاۃ‘‘(جس کا اردو ترجمہ ماہنامہ محدث بنارس میں اور نورِ اسلام اکیڈمی لاہور کی طرف سے کتابی شکل میں شائع ہوا ہے)اس میں لکھا ہے: ترکِ نماز کی وجہ سے تارکِ نماز پر درجِ ذیل امور مرتب ہوتے ہیں: 1۔ اس کا شمارہ کفار کے زمرے میں ہوگا۔ 2۔ نماز اور دیگر ارکانِ اسلام کی پابند مسلمان عورت سے اس کی شادی جائز نہیں۔ 3۔ اس کے کافر یا کم از کم فاسق ہونے کی وجہ سے اس کی گواہی قابلِ قبول نہ ہوگی۔ 4۔ اگر توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے۔ 5۔ اس کے مرنے پر اسے غسل دیا جائے نہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ 6۔ اس کے مسلمان رشتے داروں کی وراثت سے حصہ نہیں دیا جائے گا اور نہ اس کے مرنے پر وہ اس کے وارث ہوں گے،بلکہ اس کا سارا مال بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا۔[1] ترکِ نماز پر وعید اور تارکِ نماز کا جو حکم بالتفصیل ذکر کیا گیا ہے،اس سے تارکینِ نماز کی آنکھیں کھل جانی چاہییں کہ اگر تارکِ نماز کی سزا کا تقاضا ہو تو دنیا میں بھی ذلت و خواری اور آخرت میں بھی عذاب اور دنیا میں ذلت ہر دو طرح سے ہے۔اگر جمہور کے مسلک پر قتل کر دیا جائے تو نسل در نسل یہ بات چلے کہ ان کا فلاں بندہ ترکِ نماز کے جرم میں قتل کیا گیا تھا۔اگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک کو اختیار کرتے ہوئے اسے تعزیراً سزا دی جائے اور پھر اُسے تائب ہوکر نماز شروع کرنے تک یا مرنے تک عمر قید میں ڈال دیا جائے تو یہ بہ ظاہر ہلکی سزا ہے،مگر پہلی سے زیادہ ذلت ناک اور رسوا کن!! [1] مختصر از تطھیر المجتمعات (ص: 87،89) شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے ان امور پر کچھ مزید امور کا اضافہ کیا ہے۔(ماہنامہ ’’محدث‘‘ جلد 8،شمارہ بابت ذوالقعدۃ 1401ھـ بمطابق 1990ء)