کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 135
تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’مجھے ان لوگوں کے ساتھ قتال کا حکم دیا گیا ہے،یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت نہ دینے لگیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اس کا رسول ہوں،اور نماز پڑھنے لگیں اور زکات دینے لگیں۔‘‘[1] یہ حدیث بھی قائلینِ قتل کی دلیل ہے۔ محاکمہ: سابق میں ہم تارکِ نماز کے سلسلے میں دنیوی عقوبت کے طور پر سزائے قتل یا تا حینِ توبہ یا پھر تادمِ واپسیں سزائے عمر قید کی رائے رکھنے والے فریقین کے دلائل ذکر کرچکے ہیں،جن میں سے کبار محققین نے قائلینِ قتل کے دلائل کو زیادہ وزنی قرار دیا ہے،کیونکہ قائلینِ عمر قید نے جن احادیث سے دلیل اخذ کی ہے،ان میں سے ایک تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے،جس میں خون اور اموال کے محفوظ ہونے کے لیے مطلق لا الٰہ الا اللّٰه کو شرط قرار دیا گیا ہے،جبکہ اسی موضوع کی وہ احادیث جو قائلین قتل کے دلائل ہیں،ان میں سے اس اطلاق کو اقرارِ توحید کے علاوہ اقرارِ رسالت،اقامتِ نماز اور اداے زکات کے ساتھ مقید و مشروط کیا گیا ہے۔گویا قائلینِ قید کی دلیل والی حدیث تو صحیح ہے،لیکن وہ مطلق ہے،جبکہ قائلینِ قتل کے استدلال والی احادیث صحیح ہونے کے ساتھ ساتھ اس پہلی مطلق حدیث کو مقید کرنے والی بھی ہیں،اس لیے یہ قائلینِ قید کی مؤید نہیں،بلکہ قائلینِ قتل کی دلیل بن گئی ہے،کیوںکہ مال و خون کا محفوظ ہونا بھی نماز کے ساتھ مقید ہے اور جو کسی اسلامی حق کا استثنا آیا ہے،وہ بھی قائلینِ قتل ہی کے حق میں ہے،کیونکہ جب کسی اسلامی حق سے بھی قتل کیا جائے گا تو نماز علی الاطلاق اسلام کا سب سے زیادہ تاکیدی حق ہے،لہٰذا اس کے ترک پر بھی تارکِ نماز کو قتل ہی کیا جانا چاہیے۔ قائلینِ قید نے جو حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث پیش کی ہے کہ توحید و رسالت کا اقرار کرنے والے کسی مسلمان کا خون کسی کے لیے حلال نہیں سوائے تین شکلوں کے: 1۔ شادی شدہ ہو کر زنا کرے۔ 2۔ جان کے بدلے میں ہو،یعنی اس نے کسی کا قتل کیا ہو۔ [1] المنتقیٰ مع النیل (1/ 1/288) و الصلاۃ (ص: 120) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (2898)