کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 134
’’تم پر ایسے حاکم مسلط کیے جائیں گے،جنھیں تم پہچانو گے اور ان کا انکار بھی کرو گے،پس جس نے انکار کیا وہ بَری ہوگیا اور جس نے محض اس سے کراہت اور نفرت بھی کی تو وہ گناہ سے سلامت رہا،ہاں جس نے ان کے ساتھ رضا مندی ظاہر کی اور ان کی اتباع بھی کی(تو وہ گناہ گار ہوگا)۔‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا:اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ’’أَلَا نُقَاتِلُھُمْ؟‘‘(کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟)تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {لَا مَا صَلُّوْا}[1] ’’نہیں،جب تک کہ وہ نماز پڑھیں۔‘‘ اس حدیث میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ظالم حکام سے قتال میں مانع نماز کو قرار دیا ہے،جس سے معلوم ہوا کہ اگر وہ ایسے نہ ہوتے تو ان سے قتال ضروری ہوتا،جو تارکِ نماز کے قتل کی دلیل ہے۔ 6۔ چھٹی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد اور صحیح ابن خزیمہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے لوگوں کے ساتھ قتال کا حکم دیا گیا ہے،یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دینے لگیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور نماز پڑھنے لگیں۔(اگر وہ ایسا کرنے لگیں تو)پھر ان کے اموال مجھ پر حرام ہیں اور ان کا حساب اﷲ کے پاس ہے۔[2] اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ مجھے لوگوں سے قتال کا حکم ہے،یہاں تک کہ وہ نماز نہ پڑھنے لگیں اور جب تک وہ کلمہ شہادت کے اقرار اور نماز و زکات ادا کرنا شروع نہ کریں،ان جانیں اور اموال غیر محرم بلکہ مباح ہیں،تو گویا تارکِ نماز کا قتل کیا جانا ہی معلوم ہورہا ہے۔ 7۔ قائلینِ قتل کی ساتویں دلیل سنن نسائی و بیہقی میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کچھ عرب لوگ مرتدّ ہوگئے(حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان مرتدّین کے ساتھ قتال کا ارادہ کیا تو)حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ’’کَیْفَ تُقَاتِلُ الْعَرَبَ؟‘‘(آپ ان عربوں کے ساتھ کیسے قتال کریں گے؟) [1] مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (1229) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (1849) صحیح الجامع،رقم الحدیث (2395) [2] الصلاۃ (ص : 20) الصحیحہ في آخر شرح حدیث رقم الحدیث (407)