کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 133
اس نے پردے کے ساتھ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کان میں کچھ کہا اور منافقین میں سے ایک آدمی کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی،نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: {أَلَیْسَ یَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ} ’’کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں؟‘‘ تو اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ہاں وہ یہ شہادت دیتا ہے،لیکن اس کی شہادت کیا حقیقت رکھتی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {أَلَیْسَ یَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰہِ} ’’کیا وہ یہ شہادت نہیں دیتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں۔‘‘ اس انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ ہاں وہ یہ شہادت تو دیتا ہے،لیکن اس کی شہادت کیا ہوئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {أَلَیْسَ یُصَلِّيْ الصَّلَاۃَ}’’کیا وہ شخص نماز نہیں پڑھتا۔‘‘ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ وہ نماز تو پڑھتا ہے،لیکن اس کی نماز کہاں ہوگی؟ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {أُوْلٰئِکَ الَّذِيْ نَھَانِيَ اللّٰہُ عَنْ قَتْلِھِمْ}[1] ’’یہی وہ لوگ ہیں جن کے قتل سے مجھے اﷲ نے منع کیا ہے۔‘‘ اسی حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ نے اپنے نبی کو ان لوگوں کے قتل سے منع نہیں کیا،جو تارکِ نماز ہوں،بلکہ کسی کے خون کے محفوظ ہونے کے لیے کلمۂ شہادت کے اقرار کے ساتھ اقامتِ نماز بھی ضروری شرط ہے۔ 5۔ قائلینِ قتل کی پانچویں دلیل صحیح مسلم،سنن ابو داود،ترمذی اور مسند احمد میں اُم المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی وہ حدیث ہے،جس میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: {إِنَّہٗ یُسْتَعْمَلُ عَلَیْکُمْ اُمْرَائُ فَتَعْرِفُوْنَ وَتُنْکِرُوْنَ،فَمَنْ أَنْکَرَ فَقَدْ بَرِیَٔ،وَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ} [1] نیل الأوطار (1/ 1/ 920) والصلاۃ (18،19)