کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 132
ڈرنے والا نہیں ہوں؟‘‘ پھر جب وہ آدمی چلا گیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ(جو پاس بیٹھے تھے اور انھیں اس آدمی کا یہ کہنا بہت بُرا لگا تھا)کہنے لگے: ’’اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس شخص کی گردن نہ کاٹ دوں؟‘‘ تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {لَا لَعَلَّہٗ أَنْ یَّکُوْنَ یُصَلِّيْ}’’نہیں،ہوسکتا ہے کہ یہ شخص نماز پڑھتا ہو۔‘‘ اس شخص کی زبان سے نکلے ہوئے تلخ کلمات سے اندازہ کرتے ہوئے حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے کہا اور ایک روایت میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے بجائے حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے اور اس میں کوئی تضاد یا تعارض نہیں،کیونکہ ان دونوں ہی نے اس شخص کی گردن مارنے کی اجازت طلب کی تھی،لیکن ہماری ذکر کردہ اس حدیث میں چونکہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ ہی کا واقعہ مذکور ہے،لہٰذا یہاں وہی مراد ہیں کہ انھوں نے کہا:کتنے ایسے نمازی بھی ہیں کہ جو کچھ وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں،وہ ان کے دل میں نہیں ہوتا۔اس پر نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {إِنِّيْ لَمْ أُوْمَرْ أَنْ أُنَقِّبَ قُلُوْبَ النَّاسِ،وَلَا أَشُقَّ بُطُوْنَھُمْ}[1] ’’مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل چیر کر دیکھوں یا ان کے پیٹ چاک کروں۔‘‘ یہ صحیح بخاری و مسلم کی حدیث کا کچھ اختصار ہے،البتہ اس میں محلِ شاہد یا مقامِ استدلال نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ ہیں: {لَا لَعَلَّہٗ أَنْ یَّکُوْنَ یُصَلِّيْ}’’اس کی گردن مت کاٹو! ہو سکتا ہے کہ یہ نماز پڑھتا ہو۔‘‘ ان الفاظ سے معلوم ہوا کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل میں مانع نمازی ہونے کو قرار دیا ہے،تو اس کا معنیٰ یہ ہوا کہ جو نماز کا تارک ہو،اُسے قتل کیا جائے گا،کیونکہ اس کے قتل کا مانع موجود ہی نہیں ہے۔ 4۔ ایسے ہی ان کی چوتھی دلیل وہ حدیث ہے،جسے امام احمد و شافعی رحمہ اللہ نے اپنی اپنی مسند میں اور امام مالک رحمہ اللہ نے اپنے موطا میں روایت کیا ہے،جس میں حضرت عبیداﷲ بن عدی بن خیار بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بتائی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ آیا، [1] صحیح البخاری مع الفتح،رقم الحدیث (4351) صحیح مسلم مع شرح النووي (4/ 7/ 163)