کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 131
دیا جائے،جبکہ مانعینِ قتل اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جب کوئی شرک سے تائب ہوگیا تو اس سے سزائے قتل ساقط ہوگئی،وہ چاہے نماز نہ بھی پڑھتا ہو اور زکات نہ بھی دیتا ہو،لیکن ان کا یہ جواب قرآنِ کریم کے ظاہری مفہوم کے سراسر خلاف ہے۔ 2۔ وجوبِ قتل کے قائلین کی دوسری دلیل وہی حدیث ہے جو صحیحین کے حوالے سے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت قائلینِ قید کے دلائل میں ابھی گزری ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے،یہاں تک کہ وہ یہ شہادت نہ دیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور نماز نہ پڑھنے لگیں اور اگر انھوں نے ایسا کر لیا تو پھر ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہوگئے،سوائے کسی اسلامی حق کے اور ان کا حساب اﷲ کے پاس ہے۔[1] قائلینِ قتل کا استدلال اس حدیث سے دو طرح سے ہے: اولاً: نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے قتال کا حکم دیا گیا،یہاں تک کہ وہ نماز قائم کرنے لگیں اور اس کا معنیٰ یہ ہوا کہ اگر وہ نماز قائم نہ کرنے لگیں تو ان سے قتال کیا جائے گا اور یہ تارکِ نماز کے قتل کی دلیل ہے۔ ثانیاً: خون محفوظ ہوگئے:((إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ}’’سوائے اسلامی حق کے۔‘‘ یہاں اسلامی حق کو مستثنیٰ کیا ہے،جبکہ نماز تو اسلام کا بہت بڑا حق ہے۔لہٰذا اس کے ترک کرنے پر اس کا خون محفوظ نہیں رہے گا،بلکہ اُسے قتل کیا جائے گا۔ 3۔ تارکِ نماز کے سلسلے میں قائلینِ قتل کی تیسری دلیل صحیح بخاری و مسلم کی وہ حدیث ہے،جس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا،جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار آدمیوں میں تقسیم فرمایا۔ایک آدمی کہنے لگا:اے اﷲ کے رسول! اﷲ سے ڈریے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {وَیْلَکَ أَلَسْتُ أَحَقَّ أَھْلِ الْأَرْضِ أَنْ یَّتَّقِيَ اللّٰہَ} ’’تیرا بُرا ہوا،کیا میں تمام روئے زمین پر بسنے والے لوگوں کی نسبت اﷲ سے زیادہ [1] صحیح البخاری مع الفتح،رقم الحدیث (25) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (5)