کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 129
ہے،ان میں سے ایک تو صحیح بخاری و مسلم،سنن ابو داود،ترمذی اور نسائی اور مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 1۔{اُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَقُوْلُوْا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،فَإِذَا قَالُوْھَا عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَآئَ ھُمْ وَأَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّھَا}[1] ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں،جب تک وہ لا الٰہ الا للّٰه نہ کہہ دیں(یعنی اﷲ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کا اقرار نہ کر لیں)اور جب وہ یہ اقرار کر لیں تو پھر ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہوگئے،سوائے اسلامی حق کے(یعنی قصاص وغیرہ کے)۔‘‘ 2۔ صحیح بخاری و مسلم کی ایک متفق علیہ حدیث میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاس حَتّٰی یَشْھَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ،وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَ،وَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ،فَإِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ،عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَائَھُمْ وَأَمْوَالَھُمْ إِلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ،وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ}[2] ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں،جب تک وہ یہ نہ کہہ دیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی اور زکات دی اور جب انھوں نے ایسا کر لیا تو ان کے خون و اموال محفوظ ہوگئے،سوائے کسی اسلامی حق کے اور ان کا حساب اﷲ کے ہاں ہے۔‘‘ 3۔ تیسری حدیث صحیح بخاری و مسلم،سنن ابو داود،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ اور مسندِ احمد میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیٍٔ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَّا بِإِحْدٰی [1] صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (1399،6924-7284) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (4) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (2299) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (2101-2102) و صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (3705 تا 3713) الصحیحۃ،رقم الحدیث (407) [2] صحیح البخاری مع الفتح،رقم الحدیث (25) مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (5)