کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 128
’’ایک شخص نے نماز چھوڑی،اُسے نماز کی طرف دعوت دی گئی،حتی کہ بالآخر اسے باندھ دیا گیا اور تلوار کھینچ لی گئی اور اُسے کہا گیا کہ نماز پڑھتے ہو تو بولو،ورنہ ابھی تمھارا قصہ تمام کر دیا جائے گا۔وہ کہے کہ قتل کرنا ہے تو کر لے،میں نماز نہیں پڑھوں گا،ایسے شخص کے کفر میں شک کرنے والے پر بھی تعجب ہے۔‘‘[1] خلاصۂ کلام: تارکِ نماز کے بارے میں جو تفصیلات اور پھر محاکمہ ذکر کیا ہے،اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ دلائل کی رو سے ترکِ نماز کے کفر والا قول صحیح تر ہے،البتہ یہ کفر کفرِ بواح نہیں کہ ایسے شخص کے ساتھ تمام غیر مسلموں جیسا سلوک روا رکھا جائے،بلکہ یہ کفر اس سے کم درجے کا کفر ہے،جو بخشش و شفاعت میں مانع نہیں اور ایسا شخص ہمیشہ کا جہنمی بھی نہیں ہوگا،بلکہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر یا اﷲ سے معافی پا کر وہ جنت میں چلا جائے گا،لیکن یہاں یہ بات تارکینِ نماز کو کان کھول کر سُن لینی چاہیے کہ اگر علی وجہ التنزل یہ بھی مان لیا جائے کہ ترکِ نماز فسق ہے،تو یہ بھی کیا کم ہے کہ آخرت کو تو جو ہوگا سو ہوگا۔اس گناہ کی تو دنیا میں بھی سخت سزا ہے۔ سزائے قتل یا قید: اگر کوئی اسلامی حکومت نظامِ صلات کو پوری طرح نافذ کر دے تو اس شکل میں تارکِ نماز کی سزا کیا ہے؟ اس سلسلے میں حضرت سفیان ثوری،ابو عمر،امام اوزاعی،عبداﷲ بن مبارک،حماد بن زید،وکیع بن جراح،امام مالک بن انس،امام محمد بن ادریس شافعی،امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ کا فتویٰ یہ ہے کہ تارکِ نماز کو قتل کیا جائے گا۔جبکہ اس بارے میں بعض دوسرے اہلِ علم کا کہنا ہے کہ اُسے قتل تو نہ کیا جائے،البتہ اُسے قید میں ڈال دیا جائے،اگر وہ توبہ کر لے تو اُسے نکال دیا جائے،یا پھر وہ قید میں جان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے،یعنی تادمِ توبہ یا تادمِ موت اُسے قید میں رکھا جائے۔اس دوسرے مسلک کے قائلین امام ابن شہاب زہری،سعید بن مسیب،عمر بن عبدالعزیز،داود بن علی ظاہری،ابو حنیفہ اور مزنی رحمہم اللہ ہیں۔ قائلینِ قید کے دلائل: دوسرے مسلک یعنی تادمِ توبہ یا تادمِ مرگ قید کے قائلین نے جن احادیث سے استدلال کیا [1] الصلاۃ (ص: 62-63)