کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 125
یہاں ایک اصل اور بھی ہے اور وہ یہ کہ کفر کی دو قسمیں ہیں: عملی کفر اور انکاری و عنادی یعنی اعتقادی کفر،کفرِ اعتقاد تو یہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو احکام و افعال اﷲ سے لائے ہیں اور اﷲ کے جو اسماے حسنیٰ اور صفاتِ علیا ہیں،ان سب کا انکار کرے،ان پر ایمان نہ لائے۔یہ کفر ہر اعتبار سے ایمان کی ضد ہے۔ کفر کی دوسری قسم عملی کفر ہے اور وہ دو طرح کا ہے۔اس کے بعض اجزا کو ایمان کی ضد ہیں،جب کہ بعض ایسے نہیں ہیں۔جیسے بت کو سجدہ کرنا،قرآنِ کریم کی توہین کرنا،نبی کو قتل کرنا اور گالی دینا؛ یہ سب عملی کفر ہیں،مگر ایمان کی ضد ہیں۔اسی طرح خود ساختہ قانون سے فیصلہ کرنا(قانون الٰہی کو چھوڑ کر)اور نماز ترک کرنا عملی کفر کی اقسام ہیں اور یہ ہر گز ممکن نہیں کہ ایسے شخص سے کفر کے نام کی نفی کی جائے،جس پر اﷲ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر کا لفظ بولا ہے۔پس خود ساختہ قانون سے فیصلہ کرنے والا اور تارک نماز نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ واضح دلائل کی رو سے کافر ہے۔اگرچہ اس کا کفر عملی کفر ہے نہ کہ اعتقادی۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان دونوں کو اﷲ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کافر کہیں،پھر بھی ان پر کفر کا نام نہ بولا جائے۔ایسے ہی زانی،شرابی،چور اور پڑوسیوں کو اذیت پہنچانے والے کا معاملہ بھی ہے کہ ان سے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی نفی کی ہے،تو یہ کفریہ افعال ہوئے،البتہ یہ عملی کفر ہے،جس سے اعتقادی کفر کی نفی ہو گئی۔ایسے ہی عورت سے دُبر میں جماع کرنے،دوسرے مسلمان بھائی کو کافر کہنے اور کسی مسلمان سے قتال و جنگ کرنے اور سورئہ بقرہ کی آیت(84-85)کے مطابق کتاب اﷲ کے بعض حصوں کو ترک کرنے پر،ان کا کفر مگر یہ سب عملی کفر ہیں۔ایسے ہی جن سے ایمان کی نفی کی گئی ہے،ان سے اگرچہ ایمان کا نام تو زائل ہو گیا،لیکن وہ عملی کفر میں مبتلا ہیں۔یہ سب کلی طور پر دائرۂ اسلام اور ملتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوں گے۔‘‘ اس تفصیل سے ایک اور اصل بھی معلوم ہو گئی جو اہلِ سنت کے اصول میں سے ایک عظیم اصل ہے،وہ یہ کہ ملے جلے عمل والے شخص میں ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں کفر اور ایمان،شرک اور توحید،تقوی اور فسق و فجور اور نفاق اور ایمان اکٹھے ہو جائیں۔(یعنی کچھ کام ایک قسم کے اور کچھ اس کے