کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 124
شعبے ہیں۔پھر ایمان کے ان شعبوں یا اجزا کی بھی دو قسمیں ہیں:قولی اجزاے ایمان اور فعلی اجزاے ایمان،بعینہٖ کفر کے شعبوں یا اجزا کی بھی دو قسمیں ہیں:قولی اجزاے کفر اور فعلی اجزاے کفر۔ قولی اجزاے ایمان میں ایک شعبہ ایسا بھی ہے،جس کے زوال اور خاتمے سے ایمان ہی کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور فعلی اجزاے ایمان میں سے بھی بعض ایسے ہیں جس کے خاتمے سے ایمان زائل ہوجاتا ہے۔یہی معاملہ کفر کے قولی اور فعلی شعبوں کا بھی ہے،پس جس طرح اپنے اختیار سے کلمہ کفر کہنا کافر کر دیتا ہے،اسی طرح افعالِ کفر میں سے کسی کا ارتکاب بھی کافر کر دیتا ہے،مثلاً بت کو سجدہ کرنا یا قرآن کی توہین کا ارتکاب کرنا،یہ ایک اصل ہوئی،جبکہ یہاں ایک اصل اور بھی ہے اور وہ یہ کہ ایمان کی حقیقت قول اور عمل کے مجموعے کا نام ہے اور قول کی دو قسمیں ہیں: ’’دل کا قول جو اعتقاد یا عقیدہ ہے اور زبان کا قول و اقرار یا اسلام کا کلمہ کہنا۔‘‘ ایسے ہی عمل کی بھی دو قسمیں ہیں:دل کا عمل جو نیت و اخلاص ہے اور اعضاے جسم کا عمل۔ جب یہ چاروں ہی زائل ہوگئے تو ایمان ہی نہ رہا اور جب تصدیقِ قلب زائل ہوگئی تو دوسرے اجزاے ایمان بے کار ہوگئے،کیونکہ دل کی تصدیق دیگر امور کے اعتقاد اور ان کے نفع ہونے کے لیے شرط ہے اور جب دل کا عمل اور صدق کا اعتقاد زائل ہو جائیں تو اہلِ سنت کے نزدیک بالاتفاق ایمان زائل ہوگیا،کیونکہ جن کا عمل ساتھ نہ ہو تو محض تصدیق انھیں فائدہ نہیں دیتی،جبکہ دل کا عمل ہی دراصل محبت و اتباع ہے،اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ابلیس،فرعون،اس کی قوم،یہود اور مشرکین؛ یہ سب اپنے نبی کے سچا ہونے کی تصدیق کرتے تھے،بلکہ پوشیدہ و علانیہ اس کا اقرار بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ جھوٹا تو نہیں،لیکن ہم نہ اس کی اتباع کریں گے اور نہ اس پر ایمان لائیں گے،انھیں ان کے محض تصدیق و اقرار کرنے نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور جب دل کے کسی عمل کے زائل ہونے سے ایمان زائل ہوجاتا ہے تو پھر یہ کہاں بعید ہے کہ اعمالِ اعضا میں سے بڑے عمل کے زوال پر ایمان ضائع ہوجائے۔