کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 123
ہوتا ہے کہ موصوف نے بھی انتہائی وسعتِ نظر،گہری بصیرت اور محققانہ و غیر جانبدارانہ انداز سے(13-14)صفحات صرف محاکمے پر تحریر کیے ہیں۔علامہ موصوف کا کلام اتنا جامع و مانع ہے کہ اس میں اختصار بھی کوئی آسان کام نہیں،بہر حال ہماری کوشش ہے کہ ان کے خیالات کا خلاصہ آپ کے سامنے رکھا جا سکے۔موصوف لکھتے ہیں: ’’تارکِ نماز کے کفر یا عدمِ کفر کے مسئلے میں حق و صواب معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایمان اور کفر کی حقیقت معلوم ہو،پھر ہی نفی یا اثبات کا فیصلہ ہوسکتا ہے،چناں چہ کفر اور ایمان دو باہم مقابل اشیا ہیں۔ایمان ایک ایسی اصل ہے،جس کے کئی شعبے ہیں اور ہر شعبے کا نام ایمان ہے،اسی طرح نماز بھی جزوِ ایمان ہے،زکات،حج اور روزہ بھی،اسی طرح ان ظاہری اعمال کے علاوہ باطنی اعمال مثلاً حیا،توکّل علی اﷲ،خشیت و خوفِ الٰہی اور انابت و رجوع الی اﷲ بھی ایمان کے اجزا ہیں،حتی کہ راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے،ان شعبوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں،جن کے زائل ہونے سے ایمان ہی زائل ہوجاتا ہے،جیسے شہادتِ توحید و رسالت ہے اور ان شعبوں میں سے بعض وہ ہیں جن کے زائل ہونے سے بھی ایمان زائل نہیں ہوتا،جیسے راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے کو ترک کرنا۔ایمان کے کچھ شعبے ایسے ہیں،جو شہادت سے ملحق ہیں اور اس کے قریب ہیں اور بعض ایسے ہیں جو راستے میں پڑی تکلیف دہ چیز ہٹانے سے ملحق ہیں اور اسی کے قریب تر ہیں۔ ایمان کی اس قسم کی طرح ہی کفر کی اصل اور کئی شعبے ہیں۔جس طرح ایمان کے شعبے ایمان ہیں،اسی طرح کفر کے شعبے بھی کفر ہیں۔حیا ایمان کا حصہ ہے اور بے حیائی کفر کا ایک شعبہ ہے۔سچائی ایمان کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے تو جھوٹ بھی کفر کا ایک شعبہ ہے۔نماز پڑھنا،زکات دینا،حج کرنا اور روزے رکھنا ایمان کے شعبے ہیں اور ان کا ترک کرنا کفر کے شعبوں میں سے ہے۔اﷲ کے نازل کردہ آسمانی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ایمان کا شعبہ ہے اور اﷲ کے قانون کو چھوڑ کر خود ساختہ قوانین سے فیصلہ کرنا کفر کا شعبہ ہے۔غرض کہ تمام گناہ کے کام کفر کے شعبے ہیں اور تمام نیک کام ایمان کے