کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 122
اگر اقرار کے وجوب کے باجود نماز نہ پڑھے تو وہ سزاے موت کا مستحق ہے،لیکن وہ کافر نہیں۔کفر پر دلالت کرنے والی جو احادیث ہیں،وہ وعید میں شدت پر دلالت کرتی ہیں کفرِ حقیقی پر نہیں۔یہی صحیح تر بات ہے۔بے پروائی سے ترکِ نماز کرنے والے کے ساتھ عام کفار کا سا سلوک نہیں کیا جائے گا،بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کسی بھی زمانے میں تارکِ نماز کے مر جانے پر اُسے غسل نہ دیا گیا ہو،اس کا جنازہ نہ پڑھا گیا ہو اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا گیا ہو اس کے وارثوں کو اس کی میراث سے اور نہ اس کے بزرگوں کی وراثت سے منع کیا گیا اور نہ ترکِ نماز کی وجہ سے میاں بیوی میں تفریق کی گئی،جبکہ تارکین نماز(ہر زمانے میں)کثرت سے رہے ہیں۔اگر ایسا تارکِ نماز اپنے حقیقی معنوں میں کافر ہوتا تو اس پر یہ تمام احکام ثابت ہوتے۔[1] امام شوکانی: مجتہدِ مطلق امام شوکانی رحمہ اللہ نیل الاوطار میں دونوں طرح کے دلائل کے مابین محاکمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حق یہی ہے کہ تارکِ نماز کافر ہے(اور توبہ نہ کرنے کی شکل میں)اسے قتل کیا جائے گا۔وہ کافر اس بنا پر ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کافر کہا ہے اور کسی آدمی اور اس پر اس نام(کفر)کے اطلاق کے جواز کے مابین حائل صرف نماز کو قرار دیا ہے،لہٰذا ترکِ نماز کا تقاضا ہے کہ ایسے آدمی پر اس نام(کفر)کا اطلاق جائز ہو۔ عدمِ کفر کی رائے رکھنے والوں نے قائلینِ کفر پر جو اعتراضات وارد کیے ہیں،ہم پر وہ کچھ بھی لازم نہیں کرتے،کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ کفر کی بعض انواع و اقسام کا بخشش اور حقِ شفاعت میں غیر مانع ہونا ممکن ہے،جیسا کہ اہلِ قبلہ مسلمانوں کے بعض گناہوں کا نام نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر رکھا ہے اور جب ایسا ہے تو پھر ہمیں ان تاویلات کی ضرورت نہیں،جن میں لوگ مبتلا ہیں۔آگے اس کے قتل کیے جانے کے دلائل ذکر کیے ہیں،جو ایک الگ موضوع ہے۔[2] امام ابن قیم: اسی سلسلے میں جب ہم علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کے فیصلے پر مبنی خیالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم [1] یہ محض خلاصہ ہے۔تفصیل کے لیے ’’المغني‘‘ (3/ 351 تا 359،طبع جدید) ملاحظہ فرمائیں۔ [2] نیل الأوطار شوکانی (1/ 1/ 292)