کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 120
’’وَلَا حَقَّ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃَ‘‘[1] ’’اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جس نے نماز ترک کر دی۔‘‘ حضرت مسور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: {فَصَلّٰی وَإِنَّ جُرْحَہٗ یَثْعُبُ دَمًا} ’’پھر انھوں نے نماز ادا کی،جبکہ ان کے زخم سے خون جاری تھا۔‘‘ اس واقعے سے اجماعِ صحابہ پر یوں استدلال کیا جاتا ہے کہ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات کثیر صحابہ رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں کہے اور ان میں سے کسی نے بھی ان پر نکیر نہیں کی تھی جو ان کلمات پر رضا مندی اور موافقت کی دلیل ہے۔ تارکِ نماز کے حکم کا موضوع شروع کرتے وقت آغاز میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ کتنے ہی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی نظریہ تھا،حتیٰ کہ علامہ ابن حزم نے تو بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کے اسماے گرامی ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے: ’’لَا نَعْلَمُ لِھٰؤُلَآئِ مِنَ الصَّحَابَۃِ مُخَالِفًا‘‘ ’’ہمیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ان کی مخالفت پر،کسی کا علم نہیں ہوسکا۔‘‘ ان کے یہ الفاظ بھی اجماعِ صحابہ کی طرف ہی اشارہ کر رہے ہیں اور فقہ مقارن کی بہترین کتاب ’’المغني‘‘ میں امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے بعض صحابہ کرام کے اقوال بھی نقل کیے ہیں،مثلاً حضرت عمرِ فاروق اور عبداﷲ بن شقیق رضی اللہ عنہما کے اقوال کے علاوہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقولہ نقل کرتے ہیں،جس میں وہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’مَنْ لَّمْ یُصَلِّ فَھُوَ کَافِرٌ‘‘ ’’جو نماز نہیں پڑھتا تو وہ کافر ہے۔‘‘ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’مَنْ لَّمْ یُصَلِّ فَلَا دِیْنَ لَہُ‘‘[2] ’’جس نے نماز نہ پڑھی تو اس کا کوئی دین نہیں۔‘‘ آثارِ تابعین و تبع تابعین رحمہم اللہ: تارکِ نماز کے کفر پر دلالت کرنے والے بعض آثارِ تابعین و تبع تابعین رحمہم اللہ بھی ہیں،جنھیں [1] بحوالہ الصلاۃ للکلیب (ص: 205) من المجموعۃ۔ [2] المغني (3/ 355،طبع جدید بتحقیق الترکي)