کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 119
تھی اور ایسے ہی وہ واقعہ بھی ہے جو حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں کتبِ حدیث میں وارد ہوا ہے،چنانچہ موطا امام مالک میں صحیح سند کے ساتھ اور انھی کے طریق سے سنن کبریٰ بیہقی میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب امیر المومنین حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کو خنجر مار کر زخمی کیا گیا،توکچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر میں انھیں مسجد سے اٹھا کر ان کے گھر لے گیا۔حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں،پھر جب ہم حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کے گھر گئے تو وہ موت کی غشی میں تھے۔کچھ دیر وہ اسی حالت میں رہے،پھر انھیں کچھ افاقہ ہوا تو انھوں نے پوچھا: {ھَلْ صَلَّی النَّاسُ؟}’’کیا لوگوں نے نماز پڑھی ہے؟‘‘ انھیں بتایا گیا کہ ہاں تو انھوں نے فرمایا: ’’لَا إِسْلَامَ لِمَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃَ‘‘ ’’اس کا کوئی اسلام نہیں،جو نماز نہیں پڑھتا۔‘‘ دوسرے سیاق میں ہے کہ حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: {لَا حَظَّ فِی الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃَ} ’’اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں،جس نے نماز ترک کر دی۔‘‘ یہ فرمانے کے بعد پھر پانی منگوا کر وضو کیا اور نماز ادا فرمائی۔[1] مجمع الزوائد میں علامہ ہیثمی نے اس واقعے کو طبرانی اوسط کی طرف منسوب کیا ہے،جس میں حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمرِ فاورق رضی اللہ عنہ کا پتا لینے ان کے گھر گیا تو دیکھا کہ وہ کپڑے میں لپٹے بے سُدھ پڑے تھے۔میں نے حاضرین سے پوچھا کہ ان کا کیا حال ہے؟ تو انھوں نے کہا:جیسا آپ دیکھ رہے ہیں،(بے ہوش پڑے ہیں)میں نے کہا کہ انھیں نماز کے حوالے سے ہوش میں لاؤ،کیونکہ نماز سے بڑھ کر خوفزدہ کر کے جگانے والی دوسری کوئی چیز نہیں،تو پاس بیٹھے لوگوں نے کہا: ’اَلصَّلَاۃُ یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ ’’اے مومنوں کے امیر! نماز کا وقت ہے۔‘‘ یہ سننا تھا کہ وہ فوراً پکار اُٹھے:’’ھَا اللّٰه إِذَا‘‘ ’’تو چلیے پھر۔‘‘ ساتھ ہی فرمایا: [1] بحوالہ الصلاۃ لابن القیم وتحقیقہ (ص: 21۔50)