کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 118
{بَلٰی،وَلٰکِنِّيْ صَلَّیْتُ فِيْ أَھْلِيْ} ’’میں مسلمان ہوں،البتہ نماز میں نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ پڑھ لی تھی۔‘‘ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {إِذْ جِئْتَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ،وَإِنْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ}[1] ’’ جب تم آؤ تو لوگوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لو،چاہے تم پہلے نماز پڑھ ہی کیوں نہ چکے ہو۔‘‘ اس ارشادِ گرامی کے الفاظ:’’کیا تم مسلمان نہیں ہوا۔‘‘ میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم و کافر کے مابین تفریق کرنے والی چیز نماز کو قرار دیا ہے۔اس حدیث کے بین السطور میں یہ چیز محسوس کی جا سکتی ہے کہ اگر تم مسلمان ہوتے تو نماز پڑھتے اور اگر نماز کے بغیر بھی کسی کا اسلام ثابت ہوتا تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی،اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ کہتے کہ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ یہ الفاظ تارکِ نماز کے کفر کی دلیل ہیں۔ اجماعِ صحابہ﷢: قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ کے علاوہ تارکِ نماز کے کفر کی رائے رکھنے والوں کا استدلال بعض آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بھی ہے،جن میں نہ صرف یہ کہ ان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے مذکور ہے،بلکہ اس بات پر صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجماع و اتفاق کا پتا چلتا ہے،مثلاً سنن ترمذی و مستدرک حاکم میں حضرت عبداﷲ بن شقیق عقیلی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ’’کَانَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَا یَرَوْنَ شَیْئًا مِّنَ الْأَعْمَالِ تَرْکُہٗ کُفْرٌ غَیْرَ الصَّلَاۃِ‘‘[2] ’’حضرت عبداﷲ بن شقیق عقیلی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کسی بھی عمل کے ترک کرنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے،سوائے ترکِ نماز کے۔‘‘ یہ اثر اس بات کا پتا دیتا ہے کہ تارکِ نماز کے کفر پر تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے متفق ہوگئی [1] سنن النسائي مع التعلیقات السلفیۃ (1/ 99) و الصلاۃ لابن القیم و تحقیقہ (ص: 49،50) [2] المنتقیٰ (1/ 1/ 293) مشکاۃ المصابیح (1/ 183) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (2114) صحیح الترغیب (564) والحاکم (1/ 7) بحوالہ تحقیق صحیح الترغیب (1/ 227)