کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 117
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:اس بات کی گواہی دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکات ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ اس حدیث سے کئی طرح سے استدلال کیا گیا ہے،پہلی صورت یہ کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کو ایک قبہ یا گنبد قرار دیا ہے،جو پانچ ارکان پر کھڑا ہو،پس جب اس کا ایک رکن گر جائے تو وہ پورا ہی گر جاتا ہے اور یوں بھی استدلال کیا گیا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ ارکان کو اسلام قرار دیا ہے اور یہ پانچوں ہی اسلام کی حقیقت کے اجزا ہیں،یعنی اس کی حقیقت مسمی میں داخل ہیں،پس جب ان میں سے بعض چیزیں نہ رہیں تو مسمّیٰ ہی نہ رہا۔خصوصاً جبکہ وہ چیز اس کے ارکان میں سے ہو نہ کہ ایسے اجزا سے جو اس کے ارکان نہیں،جیسے گھر کی دیوار ہے کہ جب وہ گِر جائے تو وہ گھر ہی گِر جاتا ہے،برعکس اس کے کہ کوئی لکڑی یا اینٹ گر جائے تو گھر گرنے نہیں پاتا۔ گویا نماز گھر کی وہ دیوار ہے،جس پر شہتیر رکھا ہوتا ہے۔جب وہ دیوار ہی نہ رہے گی تو وہ گھر یا کمرہ بھی نہیں رہے گا،اسی طرح جب کوئی نماز ہی کا تارک ہوگا تو اس کا اسلام منہدم ہوجائے گا۔ اسی طرح قائلینِ کفر کا استدلال ان احادیث سے بھی ہے جن میں مذکور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر میں یا ڈیرے پر نماز پڑھ چکا ہو اور جماعت ہوتی دیکھے تو دوبارہ اس میں شامل ہوجائے،یہ نماز اس کے لیے نفلی ہوجائے گی،جیسا کہ اس مسئلے کی تفصیل بھی گزر چکی ہے کہ پہلی فرض اور دوسری پڑھی گئی نماز نفلی ہوگی۔اس موقع پر ہم نے اس موضوع پر دلالت کرنے والی متعدد احادیث ذکر کی تھیں،جبکہ زیرِ بحث مسئلے پر دلالت کرنے والی حدیث سنن نسائی،موطا امام مالک،مستدرکِ حاکم اور مسندِ احمد میں حضرت محجن بن ادرع اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اذان ہوئی،نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ گئے اور نماز پڑھ کر جب لوٹے تو دیکھا کہ میں اسی جگہ بیٹھا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {مَا مَنَعَکَ أَنْ تُصَلِّيَ،أَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُّسْلِمٍ؟} ’’تمھیں نماز سے کس چیز نے روکا ہے؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟‘‘ اس پر حضرت محجن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: