کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 115
وصیت فرمائی: {أَلَّا أَتْرُکَ الصَّلَاۃَ مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَکَھَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ}[1] ’’میں جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑوں،کیوں کہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی،اس سے اﷲ کا ذمہ بَری ہوگیا(یعنی وہ اﷲ کے ذمے سے نکل گیا)۔‘‘ ان تینوں روایات کے مجموعی مفاد سے معلوم ہوا کہ تارکِ نماز سے اﷲ کا ذمہ بَری ہوجاتا ہے،جو اس کے ملت اسلامیہ سے خروج کی دلیل ہے،کیونکہ بہ قول علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اگر وہ اسلام پر ہی ہوتا تو پھر اُسے اسلام کا ذمہ حاصل ہونا تھا۔ 8۔ اسی موضوع کی آٹھویں حدیث صحیح ابن حبان،معجم طبرانی کبیر،معجم طبرانی اوسط اور مسندِ احمد میں مروی ہے،جو نماز پر عدمِ پابندی کے ضمن میں بھی گزر چکی ہے،جس میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’جو شخص اس پر محافظت کرے گا،اس کے لیے یہ قیامت کے دن نور،دلیلِ خیر اور ذریعہ نجات بن جائے گی اور جس نے اس پر پابندی نہ کی تو یہ اس کے لیے نور ہوگی نہ دلیلِ خیر اور نہ ذریعہ نجات ہی: {وَکَانَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلْفَ}[2] ’’قیامت کے دن اس شخص کا حشر قارون،فرعون،ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔‘‘ اس حدیث کی تشریح ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ان بدنامِ زمانہ لوگوں کے ساتھ اس کا حشر کیوں ہوگا؟ نماز پر عدمِ پابندی کے نتیجے میں عالمِ کفر کے ان چار ستونوں کے ساتھ حشر ہونے کو بنیاد بناتے ہوئے بھی تارکِ نماز کے کفر کی رائے اختیار کی گئی ہے۔ 9۔ نویں دلیل وہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے،جو سنن ترمذی و ابن ماجہ،الایمان لابن ابی شیبہ اور مسندِ احمد میں مروی ہے،جسے تعددِ طُرق کی بنا پر صحیح قرار دیا گیا ہے،اس میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] صحیح الترغیب،رقم الحدیث (565) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (4034) [2] صحیح ابن حبان،رقم الحدیث (254)