کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 113
قائلینِ کفر کے دلائل؛ احادیث کی روشنی میں: سابقہ سطور میں ہم نے تارکِ نماز کے بارے میں کفر کی رائے رکھنے والوں کے قرآنی دلائل ذکر کیے ہیں،جبکہ ان کا استدلال متعدد احادیث سے بھی ہے،جن میں سے بعض احادیث ترکِ نماز کے انجام کے ضمن میں بھی ذکر کی جاچکی ہیں۔ 1۔ مثلاً صحیح مسلم،سنن ابو داود،ترمذی،ابن ماجہ اور مسندِ احمد میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ}[1] ’’بندۂ مومن اور کفر کے مابین ترکِ نماز(کا فرق)ہے۔‘‘ جبکہ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں: {بَیْنَ الرَّجُلِ وَبَیْنَ الشِّرْکِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلَاۃِ} ’’بندۂ مومن اور شرک و کفر کے مابین صرف نماز ہی کا فرق ہے۔‘‘ 2۔ دوسری حدیث سننِ اربعہ،صحیح ابن حبان،مستدرکِ حاکم اور مسندِ احمد میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: {اَلْعَھْدُ الَّذِيْ بَیْننَا وَبَیْنَھُمْ اَلصَّلَاۃُ فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَرَ}[2] ’’ہمارے اور ان کفار و مشرکین کے مابین جو عہد ہے وہ نماز ہے،جس نے اسے چھوڑ دیا،اس نے کفر کیا۔‘‘ 3۔ تیسری حدیث ہبۃ اﷲ لالکائی کی کتاب ’’شرح اصول اعتقاد‘‘ میں ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ [1] المنتقیٰ مع النیل (1/ 1/ 291) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3912) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (2112) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (1078) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (450) صحیح الترغیب،رقم الحدیث (563) [2] صحیح الجامع (2/ 3/ 64) المنتقیٰ (1/ 1/ 293) عن بریدۃ،صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (2113) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (1079) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (449) صحیح ابن حبان،الموارد (255) صحیح الترغیب،رقم الحدیث (563) مصابیح السنۃ،رقم الحدیث (401) یہ حدیث سنن ابی داود میں مجھے نہیں ملی۔