کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 111
آگے فرمایا: ’’تمھیں کیا ہو گیا ہے،تم کیسے فیصلہ کرتے ہو،کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے۔جن سے تم پڑھ لیتے ہو،اس میں تمھیں وہ ملتا ہے،جو تمھیں پسند ہے۔کیا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں ٹھیک پہنچنے والی قیامت کے دن کہ تمھیں وہ ملے گا،جس کا تم فیصلہ کرو گے،ان سے پوچھیے کہ ان میں سے کون اس کا ذمّہ لیتا ہے۔کیا ان کے واسطے کوئی شریک ہیں،پھر تو چاہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لے آئیں۔جس دن کہ کھولی جائے گی پنڈلی(قیامت کے دن)اور وہ بلائے جائیں گے سجدہ کرنے کے لیے مگر وہ نہ کر سکیں گے۔ان کی آنکھیں جھکی جا رہی ہوں گی،ان پر ذلت چڑھتی آتی ہو گی۔‘‘ پھر اس کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا: ﴿وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُودِ وَھُمْ سٰلِمُوْنَ﴾[القلم:43] ’’وہ سجدوں کی طرف بلائے جاتے تھے،جبکہ وہ صحیح سالم تھے۔(مگر انھوں نے کبھی سجدہ نہیں کیا تھا)۔‘‘ ان آیات سے تارکِ نماز کے کفر پر یوں استدلال کیا جاتا ہے کہ اﷲ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں کو مجرموں جیسا نہیں کرے گا،کیونکہ یہ اس کی حکمت کے لائق ہی نہیں ہے،پھر اس نے مجرموں کے جو حالات بیان کیے ہیں،مسلمانوں کے حالات کے برعکس ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور اس دن(روزِ قیامت)انھیں اﷲ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے بلایا جائے گا،مگر وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر سجدہ نہیں کر سکیں گے اور اس کا سبب دراصل یہ ہوگا کہ انھوں نے دنیا میں نمازیوں کے ساتھ مل کر سجدہ کرنا ترک کیے رکھا تھا،اس سے معلوم ہوا کہ تارکینِ نماز کا حشر کفار و منافقین کے ساتھ ہوگا،جن کی کمریں مسلمانوں کے الٰہ کو سجدہ کرنے کے وقت نہیں جھکیں گی اور اگر یہ تارکین نماز مسلمان ہوتے تو پھر انھیں بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح سجدہ کرنے کی توفیق نصیب ہوجانی تھی۔ 8۔ اسی موضوع کا آٹھواں مقام سورۃ النور ہے،جس میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاَطِیعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ [النور:65]