کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 109
(اور ایسے ہو جاتا ہے)گویا اس نے سنا ہی نہیں،ایسے شخص کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیں اور وہ جب ہماری باتوں میں سے کسی بات کی خبر پاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے،ایسے لوگوں کے لیے ذلّت ناک عذاب ہے۔‘‘ سورت ابراہیم میں ہے: ﴿وَ وَیْلٌ لِّلْکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ﴾[إبراھیم:2] ’’اور کافروں کے لیے ویل ہے سخت عذاب سے۔‘‘ ان مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے ویل کی و عید کفار ہی کو سنائی ہے۔اور تارکِ نماز کو بھی ویل ہی کی و عید سنائی گئی ہے،جو اس کے کفر کی دلیل ہے۔اور عام فُسّاق کی طرح تارکِ نماز نہیں ہے،بلکہ تارکِ نماز کو یہ و عید کفار کے ساتھ الحاق کرتے ہوئے یا اسے ان میں سے شمار کرتے ہوئے سنائی گئی ہے،جیسا کہ اس بات کے بہ کثرت دلائل آرہے ہیں۔ 5۔ قرآنِ مجید کے مذکورہ چار مقامات کے علاوہ پانچواں مقام جس سے تارکِ نماز کے کفر پر استدلال کیا جاتا ہے،سورت مریم کی آیت(59)ہے،یہ بھی نماز میں عدمِ پابندی کے ضمن میں ذکر کی جا چکی ہے،اس میں ارشاد الٰہی ہے: ﴿فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلوٰۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا﴾[مریم:59] ’’پھر ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے،جنہوں نے نماز کو ضائع کر لیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی،عنقریب وہ غيّ یا گمراہی سے دو چار ہوں گے۔‘‘ اگلی آیت میں فرمایا: ﴿اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًا﴾[مریم:60] ’’سواے ان لوگوں کے جنھوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور اچھے عمل کیے،وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہوگی۔‘‘ آیت اول میں مذکور ’’غیّ‘‘ کی تفسیر ذکر کی جاچکی ہے کہ وہ ایک گہری وادی ہے،جس میں