کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 108
کی تھی۔جبکہ بعض اہلِ علم نے بے خبری سے مراد ترکِ نماز بیان کی ہے۔مثلاً حیوہ بن شریح،ابو صخر کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے محمد بن کعب القرظی سے﴿اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلاَتِھِمْ سَاھُوْنَ﴾کا معنیٰ پوچھا تو انھوں نے جواب دیا:’’ھو تارکھا‘‘ [1] اس آیت میں نماز سے بے خبر سے تارکِ نماز مراد ہے۔ اگر اس تفسیر کو نہ بھی لیا جائے اور کہا جائے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما والی موقوف اور حسن درجے کی تفسیر میں اس سے مراد نماز میں عدم پابندی ہی ہے،تو پھر ان دونوں میں سے پہلی آیت میں جو ویل کی و عید ہے،وہ قرآنِ کریم کے اکثر مقامات پر کفار کے لیے وارد ہوئی ہے۔ہاں صرف دو مقامات پر غیر کفار یعنی فاسقین کے لیے وارد ہوئی ہے۔ان دونوں مقامات میں سے ایک تو سورت تطفیف یا مطففین کی پہلی ہی آیت ہے: ﴿وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ﴾[المطففین:1] ’’ویل ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔‘‘ دوسری جگہ سورۃ الہُمزہ کی پہلی ہی آیت ہے: ﴿وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ﴾[الھمزۃ:1] ’’ویل ہے ہر طعنہ دینے والے اور عیب ٹٹولنے والے اور غیبت کرنے والے کے لیے۔‘‘ یہ دو مقام ایسے ہیں،جہاں یہ ویل کی وعید کفار کے لیے نہیں،جبکہ دیگر مقامات پر ویل کفار کے لیے ہی مذکورہوئی ہے۔مثلاً سورت فصلت،جسے حم السجدہ بھی کہتے ہیں،اس میں ارشاد الٰہی ہے: ﴿وَوَیْلٌ لِّلْمُشْرِکِیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ﴾[حم السجدۃ:6-7] ’’ویل ہے مشرکین کے لیے جو زکات ادا نہیں کرتے اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔‘‘ سورۃ الجاثیہ میں فرمایا: ﴿وَیْلٌ لِّکُلِّ اَفَّاکٍ اَثِیْمٍ﴾[الجاثیۃ:7] ’’ویل ہے ہر جھوٹے گناہ گار کے لیے۔‘‘ آگے اس کا سبب بتاتے ہوئے فرمایا: ’’ یہ اﷲ کی باتیں سنتا ہے جو اس کے پاس پڑھی جاتی ہیں،پھر وہ ضد کرتا ہے غرور کی بنا پر [1] بحوالہ الصلاۃ (ص: 40)