کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 106
کی شہادت دے دی اور اسلام میں داخل ہوگئے،لیکن کسی عمل کی نوبت آنے سے پہلے ہی فوت ہوگئے یا مار دیے گئے اور انھیں شرائع اسلام پر عمل کرنے کا موق ہی نہیں ملا،یایہ کہ کوئی شخص دارالکفر میں مسلمان ہوا اور ابھی تک اسلامی تعلیمات سے لاعلم تھا اور اسی حالت میں اسے موت آجائے۔ایسے لوگ ترکِ نماز میں یا عدمِ اداے نماز میں معذور شمار ہوں گے،ان پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ حاصل کلام قائلینِ فسق کے پاس یا تو سرے سے کوئی صحیح دلیل ہے ہی نہیں یا پھر وہ دلیل کسی ایسے وصف سے وابستہ ہے،جس کی موجودگی میں ترکِ نماز کا کوئی امکان ہی نہیں ہو سکتا یا وہ نصوص ودلائل ایسے حالات سے مقید ہیں،جن میں ترکِ نماز کا عذر موجود ہے یا پھر ایسے عام دلائل ونصوص ہیں جو تارکِ نماز کی تکفیر کے ساتھ خاص کر دیے گئے ہیں۔[1] قائلینِ کفر کے دلائل؛ قرآنِ کریم سے: پچھلے اوراق میں ہم نے تارکِ نماز کا حکم اور اسے کافر نہیں،بلکہ مرتکب کبیرہ اور فاسق قرار دینے والوں کے دلائل ذکر کیے ہیں۔بعض اہلِ علم کے اقوال و افادات کی روشنی میں ان کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔اب باری ہے تارکِ نماز کے بارے میں قائلینِ کفر کے دلائل کی،جس کے قائلین میں سے صحابہ و تابعین،تبع تابعین اور ائمہ ہیں تو آیے اس سلسلے میں پہلے قرآنِ کریم کامطالعہ کریں۔ چنانچہ علامہ ابن قیم نے اپنی ’’کتاب الصلاۃ‘‘ میں قائلینِ فسق کے دلائل نقل کرنے کے بعد قائلینِ کفر کے دلائل بھی ذکر کیے ہیں اور قرآنِ کریم کے دس مقامات میں سے تارکِ نماز کے کفر پر استدلال اور وجوہِ استدلال بیان کی ہیں۔جن میں سے تین مقامات کو ’’تارکِ نماز کے انجام‘‘ کے ضمن میں بھی ہم ذکر کر چکے ہیں،لہٰذا ان کی تفصیل کو دہرانے کے بجائے ان سے وجہِ استدلال کا خلاصہ بیان کرتے ہیں۔ 1۔ ان تینوں میں سے پہلا مقام سورۃ المدثر آیت(38 تا 48)ہیں۔جہاں مذکور ہے کہ جنتی لوگ مجرموں سے جہنم میں جانے کا سبب پوچھیں گے،تو وہ ترکِ نماز وغیرہ جرائم کا ذکر کریں گے۔ان آیات میں سے آیت(41)میں اﷲ نے انھیں مجرم کہا ہے،جبکہ قرآنِ کریم کہ متعدد مقامات پر اﷲ تعالیٰ نے مجرموں کومومن مسلمانوں کی ضد قرار دیاہے۔جیسا کہ سورۃ القمر میں ارشادِ الٰہی ہے: [1] دیکھیں: ماہنامہ ’’محدث‘‘ بنارس (جلد: 8،شمارہ: 40-ذوالقعدہ 1410ھـ،جون 1990)