کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 105
تیسری قسم: تیسری قسم ایسی عام نصوص پر مبنی ہے،جو تارکِ نماز کے کفر پر دلالت کرنے والی احادیث سے خاص کر دی گئی ہیں۔مثلاً جن احادیث میں کلمۂ شہادت کی برکت سے آگ حرام ہونے کا ذکر ہے،وہ عام ہیں اور ترکِ نماز کے کفر والی احادیث نے تارکِ نماز کو ان سے خاص کرکے نکال دیا ہے۔ چوتھی قسم: چوتھی قسم ایسے عام دلائل پر مشتمل ہے،جو ایسے امور سے مربوط ومقید کر دیے گئے ہیں،جن کی موجودگی میں ترکِ نماز ممکن ہی نہیں،مثلاً جن احادیث میں اخلاصِ دل کے ساتھ اور خالص رضاے الٰہی کے لیے اقرارِ توحید ورسالت کا ذکر آیا ہے،جس کے عوض میں نارِ جہنم سے نجات کا ذکر ہے۔تو یہ اخلاصِ دل کے ساتھ اور خالص رضاے الٰہی کے حصول والی شرطیں ایسے امور ہیں،جن کی موجودگی میں ترکِ نماز ناممکن ہے۔اس لیے کہ جس نے بھی صدق و اخلاص کا رویہ اپنایا،اسے اس نے اداے نماز پر آمادہ کیا،کیوںکہ نماز اسلام کا رکن اور بندے اور خالق کے مابین ایک تعلق ہے۔ اور اگر بندہ اﷲ کی رضا کے حصول میں صادق ہے تو اس تک پہنچنے کے جو طریقے ہیں ان پر چلنا ضروری ہے اور یہ نماز انہی میں سے ایک ہے۔اس طرح جس نے اخلاص،صدقِ دل سے توحیدِ باری تعالیٰ اور رسالتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعتراف کر لیا تو اسے یہ شہادت صرف رضاے الٰہی کے حصول کی خاطر نماز ادا کرنے پر آمادہ کرے گی اور اس میں وہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا،کیونکہ شہادتِ حق اور کامل سپردگی لازم وملزوم چیزیں ہیں۔یعنی جب شہادتِ حق ہوگی تو پھر کامل سپردگی اور اتباع بھی ضرور ہوگی۔ پانچویں قسم: پانچویں قسم ایسی نصوص پر مبنی ہے،جو کچھ ایسے احوال اور ظروف سے وابستہ ہیں،جن کے دوران میں انسان ترکِ نماز میں معذور ہے،جس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے۔جیسے وہ لوگ جو اسلامی تعلیمات کے فرض ہونے سے پہلے فوت ہوگئے،یا وہ لوگ جنھوں نے کلمۂ شہادت پڑھ کر توحید و رسالت