کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 104
تمام دلائل پر طائرانہ نظر اور اُن کی اقسام تارکِ نماز کو کافر نہیں بلکہ فاسق قرار دینے والوں کے جتنے بھی دلائل ہیں،ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ دورِ حاضر کے معروف عالم شیخ محمد بن صالح العثیمین کے تجزیہ کی رُو سے یہ سب دلائل پانچ صورتوں میں منحصر ہیں۔ پہلی قسم: وہ دلائل جو ضعیف،غیر صحیح اور غیر صریح احادیث پر مشتمل ہیں،جن سے استدلال صحیح نہیں ہے۔ دوسری قسم: ایسے دلائل یا نصوص جن میں زیرِ بحث مسئلے کے لیے اصلاً کوئی دلیل ہی نہیں ہے،مثلاً بعض لوگوں نے سورۃ النساء کی اس آیت سے استدلال کیا ہے،جس میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾[النساء:48] ’’بے شک اﷲتعالیٰ اسے معاف نہیں کرے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔اس سے کم تر جس گناہ کو چاہے گا معاف کردے گا۔‘‘ یہاں﴿مَادُوْنَ ذٰلِکَ﴾کا مطلب یہ تو ہر گز نہیں کہ شرک کے سوا تمام گناہ ہی ایسے ہیں،کیونکہ جس نے اﷲ و رسول کے ارشادات کی تکذیب کی وہ کافر ہے اور اس کاکفر بھی ایسا ہے،جو قابلِ معافی ہے،لیکن یہ گناہ ظاہر ہے کہ شرک کی قبیل سے بھی نہیں۔