کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 103
گیا ہے۔(یعنی جس پر کفر کا لفظ آگیا،اس کی بخشش نہیں ہوگی،اس وہم کو ایک قاعدہ کلیہ بنا لیا گیا ہے،حالانکہ)یہ کوئی قاعدہ کلیہ نہیں ہے،اس قاعدے کلیے کی نفی کثیر احادیث میں وارد لفظِ کفر کی تاویلات کے جھنجٹ میں پڑنے سے بچا لیتی ہے۔‘‘ آگے فرماتے ہیں: ’’جسے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر کا نام دیا ہے،ہم بھی اسے کافر کہتے ہیں اور اس سے زیادہ نہ کچھ کہتے ہیں اور نہ تاویل ہی کرتے ہیں،کیونکہ اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔‘‘[1] بعض اہلِ علم نے تارکِ نماز کے کفر پر دلالت کرنے والی احادیث میں وارد کلمہ ’’کفر‘‘ اور ان دوسری احادیث میں وارد کلمہ ’’کفر‘‘ میں فرق کیا ہے،ان کا کہنا ہے: ’’الف لام معرفہ کے ساتھ کفر سے مراد حقیقی کفر ہے اور نکرہ کے صیغہ کفر سے مراد یہ ہے کہ یہ کام کفر کے کاموں میں سے ہیں یا ان میں سے کسی کے ارتکاب سے کفر کا صدور ہوا،مگر وہ کافر نہیں ہوا،جو دائرہ اسلام سے خارج ہوجائے۔امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘ میں اس موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے۔‘‘[2] [1] نیل الأوطار (1/ 1/ 297،298) [2] اقتضاء الصراط المستقیم (1/ 207،208) تحقیق دکتور ناصر العقل۔