کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 101
یہی حدیث مصنف ابن ابی شیبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ عدمِ کفر کے قائلین کا کہنا ہے کہ ان جرائم کا ارتکاب کرنے سے ایمان کا نام زائل ہوجانے کے باوجود ان لوگوں پر کفرِ انکار(کفرِ اکبر)واجب نہیں کیا گیا اور نہ ان کے ہمیشہ کے جہنمی ہونے کو ضروری قرار دیا گیا ہے،ایسے ہی تارکِ نماز کا کفر کفرِ اکبر(یا کفرِ انکار)نہیں اور نہ اس کا یہ جرم ہمیشہ کے لیے اس کے جہنمی ہونے کا موجب ہے،اس پر مستزاد یہ کہ امانت ادا نہ کرنے بلکہ اس میں خیانت کرنے والے شخص سے بھی ایمان کی نفی کی گئی ہے اور عہد شکنی،وعدہ خلافی کرنے والے سے دین ہی کی نفی کی دی گئی ہے،جیسا کہ مسندِ احمد،سنن بیہقی،شعب الایمان بیہقی اور ’’الأحادیث المختارۃ للضیاء‘‘ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {لَا إِیْمَانَ لِمَنْ لَّا أَمَانَۃَ لَہٗ،وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَّا عَھْدَ لَہٗ}[1] ’’اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جو عہد اور وعدہ کا پاس نہیں رکھتا۔‘‘ اس حدیث میں ان کے ایمان اور دین کی نفی کی گئی ہے،لیکن ترکِ امانتداری اور عہد شکنی کرنا ایسے کفر کا موجب تو نہیں،جو انھیں ملت اسلامیہ ہی سے نکال باہر کریں۔خصوصاً بعض صحابہ و تابعین اور ائمہ کے ایسے اقوال بھی ملتے ہیں کہ انھوں نے کفر سے کفرِ اکبر مراد نہیں لیا،جو آدمی کو دین اسلام ہی سے خارج کر دے،بلکہ اس سے ادنیٰ درجے کا کفر مراد لیا ہے،چنانچہ سورۃ المائدہ کی آیت میں جو ارشادِ الٰہی ہے: ﴿وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ﴾[المائدۃ:44] ’’اور جو لوگ اﷲ کے نازل کردہ آسمانی قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔‘‘ اس آیت میں وارد کفر کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ کفرِ(اکبر)نہیں جو تم سمجھتے ہو،چنانچہ امام طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب اس [1] صحیح الجامع (3/ 6/ 123) مشکاۃ المصابیح (1/ 17) مسند أحمد (3/ 154) سنن البیھقي (6/ 288) بحوالہ تحقیق مصابیح السنۃ (1/ 123)