کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 639
اور حلیۃ الاولیاء ابو نعیم میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ﴿أَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ عِنْدَ اللّٰہِ صَلَاۃُ الصُّبْحِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فِي جَمَاعَۃٍ[1] ’’اللہ کے نزدیک تمام نمازوں سے افضل ترین نماز،جمعہ کے دن باجماعت ادا کی گئی نمازِ فجر ہے۔‘‘ بروز جمعہ نمازِ فجر کو باجماعت ادا کرنے کے افضل ترین نماز ہونے کی وجہ بڑی واضح سی ہے کہ بعض احادیث(جن میں سے بعض ’’نمازِ جمعہ‘‘ کے احکام و مسائل اور آداب پر مشتمل اپنی کتاب میں ہم ذکر کرچکے ہیں،جہاں وضاحت بھی قدرے زیادہ ہے) کے پیشِ نظر اس رات کو لوگ عموماً عام دنوں کی نسبت ازدواجی معاملات میں زیادہ وقت دیتے ہیں،جس کے نتیجے میں صبح کی نماز رہ جانے کا زیادہ خدشہ ہوتاہے،لہٰذا جو شخص ازدواجی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہو اور صبح ہونے پر نمازِ فجر بھی باجماعت ادا کرے تو ایسی نماز کو یقینا دوسری نمازوں سے افضل ہونا ہی چاہیے۔آج اکثر عربی و اسلامی ممالک میں جمعہ کے دن کو ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے۔اس لیے بھی لوگ رات کو زیادہ جاگ لیتے ہیں کہ چلو صبح چھٹی ہے،سو لیں گے۔نتیجتاً فجر کے رہ جانے کا بھی امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔ نمازِ فجر و عشا کی اہمیت کا اندازہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی اس ارشاد سے بھی لگایا جاسکتا ہے،جو صحیح ابن خزیمہ،مسند بزار اور معجم طبرانی میں ہے،جس میں وہ فرماتے ہیں: ’’کُنَّا اِذَا فَقَدْنَا الرَّجُلَ فِي الْفَجْرِ وَالْعِشَائِ أَسَأْنَا بِہٖ الظَّنَّ‘‘[2] ’’جب ہم کسی شخص کو نمازِ فجر اور عشا سے غائب پاتے تو اس کے بارے میں(نفاق میں مبتلا ہونے) کا بُرا گمان کرتے تھے۔‘‘ ان تمام احادیث میں نمازِ فجر و عشا پر محافظت و پابندی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی اثر میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک نمازِ عشا و فجر سے غائب رہنے والے شخص کا ایمان مشکوک ہو جاتا تھا اور وہ اس کے بارے میں بدظن ہو جاتے تھے کہ کہیں وہ منافق تو نہیں ہو گیا۔ [1] صحیح الجامع(1/ 1/ 366) [2] کتاب الصلاۃ لعبد الملک(ص: 223)