کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 597
وجوب کے قول والوں کا جواب دیتے ہوئے ’’فتح الباري‘‘ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اور ’’نیل الأوطار‘‘ میں امام شوکانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ غزوہ خندق والی حدیث وجوب کی دلیل نہیں بن سکتی،سوائے اس کے کہ یہ مانا جائے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل محض امت کے حق میں وجوب کی دلیل ہے،جب کہ معروف قاعدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل محض اس فعل کے وجوب پر دلالت نہیں کرتا۔ہاں اگر معروف حدیثِ بخاری:((صَلُّوْا کَمَا رَأَیْتُمُوْنِيْ أُصَلِّيْ ’’تم بھی اسی طرح نماز پڑھو،جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔‘‘ اس ارشادِ نبوی کے عمل سے استدلال کرتے ہوئے وجوب کا کہیں تو بات قوی ہو جاتی ہے،جب کہ اس مسئلے پر بحث کے سوا دیگر امور میں خود شافعیہ نے بھی اس کا اعتبار کیا ہے۔[1] ’’نیل الأوطار‘‘ میں آگے چل کر یہ بھی لکھا ہے کہ قائلینِ وجوب کا استدلال اس بات سے بھی ہے کہ یاد آنے والی نماز،جو اصل وقت سے نکل چکی ہو،اب یاد آنے پر اس کا وقت بہت تھوڑا ہے،جب کہ وقتی نماز کا وقت کھلا ہے،لہٰذا تھوڑے اور تنگ وقت والی قضا نماز کو پہلے پڑھنا واجب ہے۔[2] تنگ وقت والی حاضر نماز پہلے یا قضا پہلے؟: فتح الباری کے ایک دوسرے مقام پر شارح بخاری حافظ عسقلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس بات میں اختلاف ہے کہ اگر کسی کو کسی حاضر نماز کے تنگ سے وقت ہی میں کوئی قضا نماز یاد آجائے تو وہ قضا کو پہلے پڑھے،چاہے حاضر نماز کا وقت گزر ہی کیوں نہ جائے یا حاضر نماز کو پہلے پڑھے یا اسے اختیار ہے کہ وہ ان دونوں میں سے جسے چاہے پہلے پڑھ لے؟ 1۔ پہلا قول ہے کہ قضا ہی کو پڑھے،چاہے حاضر کا وقت گزر ہی کیوں نہ جائے۔یہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے۔ 2۔ امام شافعی،اصحابِ رائے یعنی احناف اور اکثر اہلِ حدیث کا مسلک یہ ہے کہ(اس صورت میں) حاضر نماز کو پہلے پڑھے(تاکہ کہیں اس کا بھی وقت نہ نکل جائے)۔ 3۔ امام اشہب رحمہ اللہ نے تیسرے قول کو اختیار کیا ہے کہ ان میں سے جسے چاہے پہلے پڑھ لے اور [1] فتح الباري(2/ 72) نیل الأوطار(1/ 2/ 29) [2] نیل الأوطار(1/ 2/ 29)