کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 582
کہی ہے،وہ صحیح احادیث میں موجود ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے جلد مسجد کی طرف جانے اور بلا استثناے زوال امام نکلنے تک نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی ہے۔یہ بات جمعہ کے زوال کے وقت نماز کے جواز پر دلالت کرنے والی احادیث کے موافق و مفید ہے اور اس رخصت کی روایت امام عطاء،طاؤس،حسن بصری اور مکحول رحمہم اللہ سے بھی ملتی ہے۔[1] امام شافعی رحمہ اللہ نے ثعلبہ بن ابی مالک کے حوالے سے عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں روایت بیان کی ہے: ’’إِنَّھُمْ کَانُوْا یُصَلُّوْنَ نِصْفَ النَّھَارِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ‘‘[2] ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ کے دن زوال کے وقت بھی نفلی نماز پڑھا کرتے تھے۔‘‘ ان احادیث و آثار کا مجموعی مفاد یہ ہے کہ جمعہ کے دن زوال کے وقت یعنی جب سورج عین سر پر ہو،نفلی نماز جائز ہے،لیکن عام حالات میں یہ اوقاتِ مکروہہ میں سے ہے۔البتہ جمعہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ بعض دیگر مواقع کراہت: یہ پانچ اوقات تو نمازوں کے مکروہ ہونے کے معروف ہیں اور نمازِ پنج گانہ کے اصل اوقات کی مناسبت سے ہیں۔البتہ اہلِ علم نے بعض دیگر مواقع بھی ذکر کیے ہیں،جن میں نماز مکروہ ہے اور وہ مواقع بھی پانچ ہیں: 1۔ جب نماز کی اقامت ہو رہی ہویا ہو چکی ہو۔ 2۔ جب خطبہ جمعہ کے لیے امام و خطیب منبر پر پہنچ جائے۔ 3۔ اس فرض نماز کی جماعت ہونے کے دوران میں جو اس نے ابھی پڑھنی ہو۔ 4۔ صرف مالکیہ کے نزدیک وہ وقت کہ جمعہ کی نماز ختم ہو،مگر لوگ ابھی مسجد سے گئے نہ ہوں۔تب ان کے نزدیک نفلی نماز مکروہ ہے۔ 5۔ صرف احناف کے نزدیک وہ وقت جو مغرب کی اذان اور جماعت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہے [1] زاد المعاد(1/ 378،380) [2] دیکھیں: شرح الفتح الرباني(2/ 300)