کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 575
فَلْیُتِمَّ صَلَاتَہٗ،وَإِذَا أَدْرَکَ سَجْدَۃً مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْیُتِمَّ صَلَاتَہٗ[1] ’’جب تم میں سے کوئی شخص غروبِ آفتاب سے پہلے نمازِ عصر کا ایک سجدہ ایک رکعت،(جیسا کہ امام مسلم،امام خطابی رحمہ اللہ اور المجد ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تشریح کی ہے۔فتح الباری: 2/ 38) پالے،اسے چاہیے کہ اپنی نماز مکمل کرلے اور جب کوئی شخص صبح کی نماز کی ایک رکعت طلوعِ آفتاب سے پہلے پالے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نماز کو مکمل کر لے۔‘‘ ان احادیث سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو شخص عذر و مجبوری کی وجہ سے ان اوقات میں سے ایک رکعت بھی پالے اور بقیہ نماز طلوع یا غروب کے بعد پڑھ لے تو اس کی نماز مکمل ہوگئی،اس بات کی صراحت بھی بعض دیگر روایات میں آئی ہے۔مثلاًسنن کبریٰ بیہقی میں ہے: ﴿مَنْ اَدْرکَ مِنَ الصُّبْحِ رَکْعَۃً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ[2] ’’جس نے فجر کی ایک رکعت طلوعِ آفتاب سے پہلے پالی اور ایک رکعت طلوعِ آفتاب کے بعد پڑھ لی تو اس نے نماز پا لی۔‘‘ اس سے بھی زیادہ صریح روایت دوسری ہے،جس میں ہے: ﴿مَنْ صَلّٰی رَکْعَۃً مِّنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ،ثُمَّ صَلّٰی مَا بَقِيَ بَعْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ فَلَمْ یَفُتْہُ الْعَصْرُ[3] ’’جس نے عصر کی ایک رکعت غروبِ آفتاب سے پہلے پڑھ لی اور بقیہ نماز غروبِ آفتاب کے بعد پڑھ لی تو اس کی عصر فوت نہیں ہوئی۔‘‘ یہی بات نمازِ فجر کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی نسائی شریف کی روایت میں ارشادِ نبوی کے الفاظ ہیں: ﴿مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِّنَ الصَّلَاۃِ فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ کُلَّھَا إِلَّا أَنَّہٗ یَقْضِيْ مَا فَاتَہٗ[4] [1] صحیح البخاري مع فتح الباري(2/ 56) [2] فتح الباري(2/ 56) [3] حوالہ بالا و نیل الأوطار(1/ 2/ 21) [4] دیکھیں: صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث(544) عن سالم،فتح الباري(2/ 56)