کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 545
﴿فَمَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ﴾ ’’تو پھر یہ کون سی نماز ہے(جواب تم نے پڑھی ہے)؟۔‘‘ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ﴿رَکْعَتَا الْفَجْرِ،خَرَجْتُ مِنْ مَنْزِلِيْ وَلَمْ أَکُنْ صَلَّیْتُھُمَا ’’یہ فجر کی سنتیں تھیں،میں گھر سے نکلا تو میں نے وہ سنتیں نہیں پڑھی تھیں۔‘‘ آگے وہ بیان کر تے ہیں: ﴿فَلَمْ یَعِبْ ذٰلِکَ عَلَیَّ ’’(یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر میرے اس فعل کو معیوب نہیں کہا۔‘‘ اس حدیث کو محدث ابو موسیٰ نے روایت کیا اور کہا ہے کہ ابن جریج نے اسے عطا بن ابی رباح کے حوالے سے قیس بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور یہ صحیح بھی ہے۔[1] آثار: ایسے ہی بعض آثار سے بھی پتا چلتا ہے کہ فجر کے فرضوں کے بعد طلوعِ آفتاب سے پہلے فجر کی سنتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔چنانچہ مصنف عبدالرزاق میں ابن جریج رحمہ اللہ امام عطاء رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ’’إِذَا أَخْطَأْتَ أَنْ تَرْکَعُھَا قَبْلَ الصُّبْحِ فَارْکَعْھُمَا بَعْدَ الصُّبْحِ‘‘[2] ’’اگر فجر کی سنتیں فرضوں سے پہلے نہ پڑھ سکوتو فرضوں کے بعد پڑھ لو۔‘‘ امام طاؤس کے فرزند اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: ’’إِذَا أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَلَمْ تَرْکَعْ رَکْعَتَيِ الْفَجْرِ،صَلِّ مَعَ الْإِمَامِ،فَإِذَا فَرَغَ إِرْکَعْھُمَا بَعْدَ الصُّبْحِ‘‘[3] ’’جب جماعت کھڑی ہو جائے اور تم نے ابھی سنتیں نہیں پڑھیں تو امام کے ساتھ مل کر فرض پڑ ھ لو اور جب وہ(امام) فرضوں سے فارغ ہو تو تم وہ سنتیں پڑھ لو۔‘‘ [1] إعلام أہل العصر(ص: 231) [2] مصنف عبد الرزاق(2/ 442) [3] المصدر السابق۔