کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 523
نمازِ عشا پڑھنا افضل ہے،لہٰذا عامۃ اللّیل سے رات کا کافی حصہ گزرنا مراد ہے اور وہ بھی نصف سے زیادہ نہیں،بلکہ اس کے اندر اندر ہے۔[1] اسی موضوع کی چوتھی حدیث صحیح بخاری و مسلم،سنن ابی داود اور نسائی میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ پانچوں نمازوں کے اوقات نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں،اس حدیث میں ہے: ﴿وَ الْعِشَائَ أَحْیَاناً یُؤَخِّرُھَا وَأَحْیَانًا یُعَجِّلُ إِذَا رَآھُمْ اِجْتَمَعُوْا عَجَّلَ،وَإِذَا رَآھُمْ أَبْطَؤُوْا أَخَّرَ[2] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشا کو کبھی تو موخر کرکے پڑھتے اور کبھی جلدی ادا فرماتے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ لوگ اکٹھے ہوگئے ہیں تو جلدی نماز پڑھا دیتے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ لوگ لیٹ ہو رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ہی لیٹ کر لیتے تھے۔‘‘ صحیح بخاری و مسلم کی ایک متفق علیہ پانچویں حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں: ﴿اَخَّرَ النبيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم صَلَاۃَ الْعِشَائِ إِلٰی نِصْفِ اللَّیْلِ،ثُمَّ صَلّٰی،ثُمَّ قَالَ: قَدْ صَلَّی النَّاسُ وَنَامُوْا،أَمَا إِنَّکُمْ فِيْ صَلَاۃٍ مَا انْتَظَرْتُمُوْھَا[3] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشا کو نصف شب تک موخر کیا اور پھر پڑھا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسرے لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے اور وہ سو بھی چکے ہیں۔تم لوگ جب تک انتظار میں ہو گویا نماز ہی ادا کر رہے ہو۔‘‘ چھٹی حدیث سنن ابی داود،نسائی،صحیح ابن ماجہ،ابن خزیمہ اور مسند احمد میں مروی ہے،جس میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ﴿اِنْتَظَرْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَیْلَۃً بِصَلَاۃِ الْعِشَآئِ،حَتَّیٰ ذَھَبَ نَحْوًا مِّنْ شَطْرِ اللَّیْلِ [1] شرح صحیح مسلم للنووي(3/ 5/ 138) نیل الأوطار(1/ 2/ 12) [2] صحیح البخاري مع الفتح(2/ 41) صحیح مسلم مع شرح النووي(3/ 5/ 144) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث(384) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث(513) [3] صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث(582) و صحیح مسلم مع شرح النووي(3/ 5/ 139،140)