کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 521
نمازِ عشا کے اوّل وقت کے افضل ہونے کی ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اوّل وقت میں نماز ادا فرمائی اور بعض اوقات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عشا کو موخر کر کے ادا فرمایا،وہ کسی کام یا عذر اور بیانِ جواز کے لیے تھا۔اگر تاخیر سے عشا کا ادا کرنا افضل ہوتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر ہمیشگی فرماتے،چاہے اس میں مشقت بھی ہوتی۔ آخری وقت: اہلِ علم کی دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ باقی چاروں نمازوں کو تو ان کے اوّل اوقات میں ادا کرنا ہی افضل ہے،لیکن نمازِ عشا کو اس کے آخری وقت میں ادا کرنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔اس رائے والے علما اوّل وقت میں نمازوں کو ادا کرنے پر دلالت کرنے والی احادیث کا یہ جواب دیتے ہیں کہ ان میں مطلقاً نمازوں کو اوّل وقت میں ادا کرنے کا حکم ہے،جب کہ نمازِ عشا کو موخر کر کے ادا کرنے کی تو خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ترغیب دلائی ہے،جس کا ذکر متعدد احادیث میں وارد ہوا ہے،لہٰذا عمومی احادیث کی نمازِ عشا کے بارے میں ان احادیث سے تخصیص کی جائے گی۔یعنی عشا کی تاخیر والی احادیث پر عمل کیا جائے گا۔ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو عادت مبارکہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشا اوّل وقت ہی میں ادا فرمائی،لہٰذا یہی افضل ہے تو اس بات کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ بات تب قابلِ قبول ہوتی،جب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف عمل مبارک ہی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوّل وقت میں عشا ادا فرمائی اور اس سلسلے میں کوئی ارشاد نہ ہوتا،جب کہ ایسا نہیں ہے،بلکہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات سے پتا چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں نمازِ عشا ادا کرنے کو افضل قرار دیا ہے۔اوّل وقت میں ادا کرنا صرف اس بنا پر فرمایا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کو مشقت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے تھے،جیسا کہ بعض احادیث میں واضح طور پر اس بات کا ذکر بھی آیا ہے۔[1] اور آخری وقت میں نمازِ عشا ادا کرنے کو افضل قرار دینے والے علما کا استدلال جن احادیث سے ہے،ان میں سے ایک تو صحیح مسلم،سنن نسائی اور مسند احمد میں مروی ہے،جس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: [1] شرح صحیح مسلم للنووي(3/ 5/ 138) دار إحیاء التراث،نیل الأوطار(1/ 2/ 10)