کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 515
﴿ثُمَّ جَائَ ہُ الْعِشَائَ حِیْنَ ذَھَبَ نِصْفُ اللَّیْلِ أَوْ قَالَ: ثُلُثُ اللَّیْلِ فَصَلّٰی الْعِشَائَ ’’پھر(دوسرے دن ) حضرت جبرائیل علیہ السلام نمازِ عشا کے لیے اس وقت آئے،جب کہ آدھی رات یا فرمایا کہ ایک تہائی رات گزر چکی تھی۔تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشا پڑھی۔‘‘ اس حدیث کے علاوہ بعض دیگر احادیث میں نمازِ عشا کے آخری وقت کی صراحت آئی ہے۔مثلاً صحیح بخاری و مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ﴿أَخَّرَ النَّبيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم صَلَاۃَ الْعِشَائِ إِلٰی نِصْفِ اللَّیْلِ ثُمَّ صَلّٰی[1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشا کو نصف شب تک موخّر کر کے ادا فرمایا۔‘‘ صحیح احادیث میں شطر اللیل،قریبٌ من نصف اللیل اور نصف اللیل الاوسط کے الفاظ ہیں۔صحیح مسلم،سنن ابی داود،نسائی اور مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما والی حدیث میں بھی یہ صراحت ہے: ﴿فَإِذَا صَلَّیْتُمُ الْعِشَائَ فَإِنَّہُ وَقْتٌ إِلٰی نِصْفِ اللَّیْلِ[2] ’’جب تم عشا کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔‘‘ جب کہ صحیح مسلم،سنن ابی داود کے علاوہ سنن اربعہ،مسند احمد اور منتقی ابن الجارود میں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ پنج گانہ کے اوقات بیان ہوئے ہیں،ان میں نمازِ عشا کے بارے میں یہ الفاظ ہیں: ﴿وَصَلَّی الْعِشَائَ بَعْدَ مَا ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ[3] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عشا(دوسرے دن) ایک تہائی رات گزارنے کے بعد ادا فرمائی۔‘‘ اور صحیح مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے: ﴿ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَائَ حَتَّیٰ کَانَ ثُلُثِ اللَّیْلِ الْأَوَّلُ[4] [1] صحیح البخاري مع الفتح(2/ 51) صحیح مسلم مع شرح النووي(3/ 5/ 139،140) [2] صحیح مسلم مع شرح النووي(3/ 111،112،113) نیز دیکھیں: صحیح مسلم مع شرح النووي(2/ 5/ 109،113) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث(383) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث(508) مشکاۃ المصابیح(1/ 184) المنتقیٰ مع النیل(1/ 1/ 310) [3] صحیح مسلم مع النووي(3/ 5/ 114،115) مشکاۃ مع المرعاۃ(2/ 20) [4] صحیح مسلم مع شرح النووي(3/ 5/ 116)