کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 51
بخاری و مسلم،سنن ابو داود،دارمی،بیہقی اور مسندِ احمد میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ﴿مَرِضْتُ فَأَتَانِیَ النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم ھُوَ وَ أَبُو بَکْرٍالصِّدِّیْقُ مَاشِیَیْنِ،وَقَدْ أُغْمِیَ عَلَيَّ فَلَمْ أُکَلِّمْہُ،فَتَوَضَّأَ فَصَبَّہٗ عَلَيَّ فَأَفَقْتُ[1] ’’میں بیمار ہوگیا تو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔جبکہ مجھ پر غشی طاری تھی لہٰذا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات نہ کر سکا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا تو مجھے افاقہ ہوگیا۔‘‘ یہ الفاظ مسندِ احمد کے ہیں،جبکہ صحیح بخاری و مسلم میں مروی ہے: ﴿جَائَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَعُوْدُنِي وَاَنَا مَرِیْضٌ لَا أَعْقِلُ،فَتَوَضَّأَ وَ صَبَّ وَضَوْئَ ہٗ عَلَيَّ[2] ’’میری بیماری کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے،جبکہ میں کوئی بات نہیں سمجھتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا۔‘‘ ایسے پانی کے طاہر و مطہّر ہونے کے قائلین کا کہنا ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے وضو کے پانی کا چھڑکنا اس بات کی دلیل ہے کہ مستعمل پانی طاہر و مطہر ہی ہوتا ہے۔صحیح بخاری اور مسند احمد میں صلح حدیبیہ کا واقعہ مذکور ہے۔راویِ حدیث نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عقیدت و محبت کی تصویر کشی کرتے ہوئے متعدد امور بیان کرتے ہیں،جن میں سے ایک یہ امر بھی ہے: ﴿وَاِذَا تَوَضَّأَ کَادُوْا یَقْتَتِلُوْنَ عَلَی وَضُوئِ ہٖ[3] ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آپ کے وضو والے پانی کو حاصل کرنے کے لیے یہ حال تھا کہ قریب تھا کہ باہم جھگڑ پڑیں۔‘‘ 3۔ مسند احمد میں ہے: ﴿لَا یَتَوَضَّأُ وُضُوْئً ا اِلاَّ ابْتَدَرُوْہُ[4] [1] مسند أحمد،الفتح الرباني(1/ 209) [2] صحیح البخاري مترجم اُردو(3/ 293) الإرواء(1/ 54) نیل الأوطار(1/ 18۔19) [3] صحیح البخاري مع الفتح(1/ 294) الفتح الرباني(1/ 209) النیل مع المنتقی(1/ 19) الإرواء(1/ 52) [4] مسند أحمد(4/ 423)