کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 508
ان پانچوں اوقات میں نماز ادا ہو گی۔اگر ان میں سے کو ئی بھی نہ ہو،بلکہ سورج غروب ہو گیا ہو تو پھر وہ قضا ہوگی۔[1] امام ابن قدامہ نے ’’المغني‘‘ میں لکھا ہے کہ جب کسی چیز کا سایہ دوگنا ہو جائے تو عصر کا وقتِ اختیار ختم ہوگیا اور صحیح تر روایت کی رو سے امام احمد رحمہ اللہ کا قول یہ نقل کیا ہے کہ ان کے نزدیک عصر کا آخری وقتِ اختیار سورج زرد ہونے تک ہے اور غروبِ آفتاب سے پہلے ایک رکعت پانا وقتِ اضطرار ہے۔[2] نمازِ عصر کا اوّل وقت: یہیں یہ بات بھی ذکر کر دیں کہ جمہور اہلِ علم کے نزدیک نمازِ عصر کا اوّل وقت کسی کے سائے کا ایک مثل ہو جانا ہے۔امام احمد،امام مالک اور امام محمد رحمہم اللہ بھی ان میں شامل ہیں اور صحیح احادیث سے اسی مسلک اوّل کی تائید ہوتی ہے۔امام شافعی رحمہ اللہ کا مسلک بھی ایک مثل والا ہی ہے۔البتہ وہ ایک مثل سے تھوڑا زیادہ سایہ ہو جانے کا اوّل وقت کہتے ہیں۔قاضی ابو یوسف جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے معروف اور ارشد تلامذہ میں سے ہیں،ان کا مسلک بھی جمہور والا ہی ہے اور ایک روایت کے مطابق تو خود امام صاحب رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک ہے،لیکن مشہور روایت کی روسے امام صاحب کا مسلک یہ ہے کہ عصر کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے،جب کسی چیز کا سایہ اس سے دو گنا ہو جائے۔[3] اس قول کی تائید کسی حدیث سے نہیں ہوتی اور جو بعض روایات ملتی ہیں،وہ محدّثین کرام کے نزدیک ضعیف اور ناقابلِ حجت ہیں۔چنانچہ سنن ترمذی میں امام صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ عصر کو موخر کر کے پڑھنے کے بارے میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع حدیث مروی ہے،مگر وہ صحیح نہیں۔[4] ترمذی شریف کی شرح میں علامہ مبارکپوری نے وضاحت کی ہے کہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ والی وہ حدیث سنن دارقطنی و بیہقی میں مروی ہے،جس کے بارے میں انھوں نے امام دارقطنی،بیہقی اور بخاری رحمہ اللہ [1] شرح صحیح مسلم للنووي(3/ 5/ 110،111) [2] المغني(2/ 15،16) [3] الکواکب الدري(1/ 190) بحوالہ فقہ السنۃ اردو(1/ 108) [4] سنن الترمذي مع التحفۃ(1/ 494)