کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 503
ان الفاظ کی تاویل ضروری ہے۔مذکورہ الفاظ کے ساتھ ہی بعض دیگر الفاظ کو یہاں محذوف کیا گیا ہے،جنھیں شامل کرنے سے عبارت یوں ہوئی: ’’فَقَدْ أَدْرَکَ حُکْمَ الصَّلَاۃِ أَوْ وُجُوْبَھَا أَوْ فَضْلَھَا‘‘[1] ’’اس نے نماز کے حکم کو یا وجوب کو یا(ادا کرنے کی) فضلیت کو پالیا۔‘‘ یہ بھی کہا گیا ہے: ’’إِنَّہُ أَدْرَکَ الْوَقْتَ‘‘ ’’اس نے(اس نماز کے) وقت کو پا لیا۔‘‘ شرح بخاری میں لکھا ہے کہ یہ جمہور کا قول ہے۔[2] نسائی شریف میں اس حدیث کے الفاظ ہیں: ﴿فَقَدْ أَدْرَکَ الصَّلَاۃَ کُلَّھَا إِلَّا أَنَّہٗ یَقْضِيْ مَا فَاتَہٗ[3] ’’اس شخص نے پوری نماز کو پالیا۔البتہ وہ فوت شدہ نماز قضا(مکمل) کرلے گا۔‘‘ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے ایک رکعت پڑھ لی اور بقیہ رکعتیں غروبِ آفتاب کے بعد پڑھ کر نماز کو مکمل کر لیا،اس کی عصر فوت نہیں ہوئی۔الفاظ یہ ہیں: ﴿مَنْ صَلَّی رَکْعَۃً مِّنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ،وَصَلّٰی مَا بَقِيَ بَعْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ لَمْ تَفُتْہُ صَلَاۃُ الْعَصْرُ[4] ’’جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت پڑھ لی اور باقی نماز(تین رکعتیں) غروبِ آفتاب کے بعد پڑھی(مکمّل کر لیں) تو اس کی نمازِ عصر فوت نہیں ہوئی۔‘‘ نمازِ فجر کی طرح ہی جمہور ائمہ و فقہا کے نزدیک تو اس طرح نمازِ عصر صحیح و مکمل ہو جاتی ہے،حتیٰ کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مسلک اگرچہ یہ ہے کہ نمازِ عصر کا آخری وقت سورج کے زرد پڑ جانے تک ہے،جب کہ ان کے نزدیک بھی ایسی نماز،جس کے دوران ہی سورج غروب ہو جائے،وہ نماز باطل نہیں ہوتی۔[5] [1] شرح صحیح مسلم مع النووي(3/ 5/ 105) [2] فتح الباري(2/ 56) [3] صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث(544) [4] مسند أحمد(2/ 254) بحوالہ المعجم الفہرس لا الفاظ الحدیث(5/ 205) [5] شرح صحیح مسلم للنووي(3/ 5/ 106)