کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 501
یَحْضُرِ الْعَصْرُ‘‘[1] ’’ظہر کا وقت زوالِ آفتاب سے لے کر آدمی کا سایہ اس کے برابر ہو جانے تک ہے،جب کہ ابھی ظہر نہ ہوئی ہو۔‘‘ اس طرح((مَا لَمْ یَحْضُرِ الْعَصْرُ﴾ کے الفاظ نے مسئلہ واضح کر دیا کہ نمازِ ظہر و عصر کے اوقات میں کوئی اشتراک نہیں ہے۔حضرت جبرائیل علیہ السلام والی حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کا جواب بھی دیا گیا ہے کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر سے اس وقت فارغ ہوگئے،جب کسی چیز کا سایہ اس کے برابر ہوا اور پہلے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نمازِ عصر کا آغاز فرمایا،جب کسی چیز کا سایہ اس کی ایک مثل کے برابر تھا۔[2] اس طرح دونوں نمازوں کے اوقات میں کوئی باہمی اشترک نہ رہا اور یہ شبہہ زائل ہوگیا۔حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کی رُو سے نمازِ عصر کا آخری وقت کسی چیز کے سائے کا دو مثل ہو جانا ذکر ہوا ہے،جب کہ صحیح مسلم،سنن ابو داود،نسائی اور مسندِ احمد میں حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ﴿وَقْتُ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ[3] ’’نمازِ عصر کا وقت اس وقت تک ہے،جب تک سورج کا رنگ زرد نہ ہو جائے۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے: ﴿وَوَقْتُ صَلَاۃِ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَیَسْقُطُ قَرْنُھَا الْأَوَّلُ[4] ’’اور عصر کا وقت تب تک ہے،جب تک سورج کا رنگ زرد نہ پڑ جائے اور اس کا پہلا کنارہ(افق میں) نہ بیٹھ جائے۔‘‘
[1] صحیح مسلم مع شرح النووي(3/ 5/ 112) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث(383) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث(508) النیل(1/ 1/ 303) [2] شرح صحیح مسلم للنووي(3/ 5/ 110) نیل الأوطار(1/ 1/ 202،303) [3] صحیح مسلم مع شرح النووي(2/ 5/ 112) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث(383) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث(508) [4] صحیح مسلم مع شرح النووي(2/ 5/ 113) مع النیل(1/ 1/ 306)