کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 472
نے ایک بت کو چھوا تھا۔‘‘ اس روایت کی سند کے ایک راوی صالح بن حیان ہیں،جو ضعیف اور ناقابلِ حجت ہیں،لہٰذا قرآن و سنت کی کوئی واضح نص نہ ہونے کی وجہ سے صلیب یا صنم اور بتوں یا دیوی و دیوتاؤں کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا،ہاں اگر استحباباً کوئی وضو کر لے تو یہ الگ بات ہے۔ غسل اور وضو کے لیے پانی میں احتیاط: اس کے ساتھ ہی غسل و وضو کے احکام اور مسائلِ طہارت میں سے تمام ضروری ضروری امور مناسب تفصیل کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے۔ چلتے چلتے ایک اور بات بھی ذکر کرتے جائیں اور اس پہلو کی طرف تو جہ دلانا،اس لیے ضروری لگتا ہے کہ ہمارے بعض اصحاب مساجد کی ٹوٹیوں پر بیٹھ جائیں تو اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔پانی کھلا ہے اور باتیں شروع ہیں۔کچھ ایسا ہی معاملہ عموماً غسل میں بھی ہوتا ہے،حالاں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غسل اور وضو کے لیے پانی کے استعمال میں کافی احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں عدمِ احتیاط کو اسراف یا فضول خرچی ہی کہا جائے گا۔یہ بات تو سنن ابن ماجہ اور مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں بھی مذکور ہے،جو حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ﴿مَا ہٰذَا السَّرَفُ یَا سَعَدُ؟﴾ ’’اے سعد!یہ کیا فضول خرچی ہے؟‘‘ تو انھوں نے عرض کی: ﴿أَفِي الْوُضُوْئِ سَرَفٌ؟﴾ ’’کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟‘‘ جواب ملا: ﴿نَعَمْ،وَ اِنْ کُنْتَ عَلَی نَہْرٍ جَارٍ[1] ’’ہاں،اگرچہ تو بہتی نہر پر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ لیکن یہ روایت ضعیف ہے،کیوں کہ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے،جو ضُعف میں معروف ہے۔[2] [1] بحوالہ مشکاۃ المصابیح(1/ 133) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث(425) [2] تحقیق المشکاۃ المصابیح(1/ 133)