کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 453
اٹھانے پر وضو واجب نہیں اور بقول صنعانی اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے محض ہاتھوں کو دھو لینا صرف مستحب ہے،واجب یہ بھی نہیں،کیوں کہ میت پاک ہوتی ہے،جیسا کہ سنن بیہقی میں حدیث ہے: ﴿إِنَّ مَیِّتَکُمْ یَمُوْتُ طَاھِراً فَحَسْبُکُمْ أَنْ تَغْسِلُوْا أَیْدِیَکُمْ[1] ’’تمھاری میت پاک ہوتی ہے،لہٰذا تمھارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ہاتھ دھو لو۔‘‘ اس حدیث کی سند کو حافظ عسقلانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے۔الغرض میت کو ہاتھ لگا کر اٹھانے سے وضو واجب نہیں ہوتا اور اگر وضو کیا ہوا ہو تو وہ نہیں ٹوٹتا۔اس موضوع کی متعلقہ احادیث اور فقہی تفصیلات کے لیے ’’بدایۃ المجتہد‘‘،’’نیل الأوطار‘‘،’’تمام المنۃ‘‘(ص: 112،113) ’’سبل السلام‘‘،’’التلخیص الحبیر‘‘،’’المحلّیٰ‘‘ اور دیگر کتبِ حدیث و فقہ دیکھی جاسکتی ہیں۔ 5۔6۔سریا مو نچھوں کے بال کا ٹنا اور نا خن تراشنا : اگر کسی نے وضو کیا ہوا ہو اور اسی حالت میں وہ ناخن تراشنے لگے یا مونچھوں اور سرکے بال کاٹ لے تو اس سے بھی وضو نہیں ٹوٹتا،چنانچہ صحیح بخاری کے ایک ترجمۃ الباب میں تعلیقاً اور سنن سعید بن منصور میں صحیح سند کے ساتھ موصولاً حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے: ’’إِنْ أَخَذَ مِنْ شَعْرِہِ أَوْ أَظْفَارِہِ[أَوْ خَلَعَ خُفَّیْہِ] فَلَا وُضُوْئَ عَلَیْہِ‘‘[2] ’’اگر کوئی بال کا ٹے یا ناخن تراشے تو اس پر وضو نہیں ہے۔‘‘ امام مجاہد،حکم بن عتیبہ اور حماد رحمہم اللہ سے منقول ہے کہ وہ ان دونوں کاموں پر وضو کا کہا کرتے تھے،جب کہ امام ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجماع اس کے خلاف ہے،یعنی وضو ضروری نہ ہونے پر علماے امت کا اجماع ہے۔[3] 7۔قے کرنا: وہ امور جن سے وضو نہیں ٹوٹتا،ان میں سے ساتویں چیز خود بہ خود آنے والی قے بھی ہے۔ایسی قے بھی ناقضِ وضو نہیں،کیوں کہ اس کے ناقض ہونے پر دلالت کرنے والی کوئی صریح حدیث [1] التلخیص الحبیر(1/ 1/ 137۔138) نیل الأوطار(1/ 1/ 238) [2] صحیح البخاري مع الفتح(1/ 280،281) [3] فتح الباري(1/ 281)