کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 375
ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے کلّر زمین پر تیمم کے جائز ہونے پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے،جس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ارشادِ نبوی ہے: ﴿اُرِیْتُ دَارَ ھِجْرَتِکُمْ سَبِخَۃً ذَاتَ نَخْلٍ [1] ’’مجھے تمھارا دارِ ہجرت(مدینہ طیبہ) دکھایا گیا ہے،جو کلّر والا نخلستان ہے۔‘‘ خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کا نام ’’طیبہ‘‘ رکھا،جو اس بات کی دلیل ہے کہ کلّر زمین بھی طیب(صَعِیْداً طَیِّباً ) میں داخل ہے۔ جنسِ ارض: اب یہاں جنسِ ارض کے سلسلے میں ایک فقہی نقطہ اور موجود دور میں اس کے مجروح ہونے کا تذکرہ بھی مناسبِ حال ہوگا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہر اس چیز پر تیمم کیا جاسکتا ہے،جو جنسِ ارض سے ہو۔ فقہ حنفی کی معروف کتاب ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کے عربی اڈیشن ’’الفتاویٰ الہندیۃ‘‘ کی جلد اوّل کے بالکل ابتدائی صفحات(ص: 14) میں جنسِ ارض کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے: ’’جنسِ ارض سے مراد ہر وہ چیز ہے جو جلا نے کی وجہ سے خاکستر(راکھ ) بنے نہ پگھلے۔اس طرح لکڑی جو خاکستر بن جاتی ہے اور سونا چاندی جو آگ کی وجہ سے پگھل جاتے ہیں،زمین کی جنس میں شامل نہ ہوں گے اور ان سے تیمم نہیں کیا جاسکے گا۔‘‘ یہ ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کے الفاظ و مفہوم ہے،جب کہ آج یہ بات پایۂ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ خود مٹی بھی ایک خاص حدتک گرم کرنے کے بعد پگھل جاتی ہے۔اس طرح ’’جنسِ ارض‘‘ کی مذکورہ تعریف مجروح ہوجاتی ہے۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ تعریف میں جلانے سے مراد عام معمول کی حرارت اور آگ ہے،جس سے سونا وغیرہ تو پگھل جاتا ہے،جب کہ مٹی کو پگھلا نے کے لیے مخصوص نوعیت کی غیر معمولی حرارت اور گرمی مطلوب ہوتی ہے۔[2] ٹرین وغیرہ کی دیواروں پر تیمم: مسائلِ تیمم کے سلسلے میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ کوئی شخص ٹرین(ریل [1] دیکھیں: فتح الباري(1/ 447( [2] دیکھیں: جدید فقہی مسائل(ص: 26(