کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 372
کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے،اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: ’’صعید‘‘ زمین کے بلند حصے کو کہتے ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ صعید سے مراد زمین کا وہ حصہ ہے،جس میں ریت اور کلّر شامل نہ ہو۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ صعید سے مراد مطلق روے زمین ہے اور اس قول والوں کا استدلال قرآن کی سورۃ الکہف(آیت: 40) کے الفاظ سے ہے،جن میں ہے: ’’بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا فرما دے اور تیرے باغ پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے: ﴿فَتُصْبِحَ صَعِیْداً زَلَقًا﴾[الکھف: 40] ’’جس سے وہ پھسلتی زمین(صاف میدان ) بن کرر ہ جائے۔‘‘ (گو اس آیت میں صعید سے مراد مطلق روے زمین ہے) کہا گیا ہے کہ صعید سے مراد زمین ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صعید سے پاک زمین مراد ہے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ ہر پاک مٹی صعید ہیں،اس پر سورۃ المائدۃ کی آیت(6) کے الفاظ ﴿فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْداً طَیِّباً﴾ سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔فرّاء نے سورۃ الکہف(آیت: 8) کے الفاظ ﴿صَعِیْداً جُرُزاً ﴾ میں صعید کا ترجمہ مٹی کیا ہے اور بعض دیگر نے برابر اور چٹیل زمین کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’صعید‘‘ کا اطلاق صرف اس مٹی پر ہی ہوتا ہے جو غباروالی ہو،پتھریلی جگہ پر ’’صعید‘‘ کا لفظ صادق نہیں آتا،ان کے نزدیک چونے،سُرمے اور ہڑتال نامی دھات سے تیمم نہیں کیا جاسکتا،کیوں کہ یہ سب پتھر کی اقسام ہیں۔ ابو اسحاق زجاج کہتے ہیں: ’’صعید سے مراد روے زمین ہے۔انسان کو چاہیے کہ وہ زمین پر ہاتھ مار کر تیمم کرلے اور اس بات کی پروا نہ کرے کہ اس جگہ مٹی بھی ہے یا نہیں،کیوں کہ ’’صعید‘‘ سے مراد مٹی نہیں،بلکہ روے زمین ہے،خواہ وہاں مٹی ہو یا کچھ اور ہو۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں: ’’اگر ساری زمین ہی پتھریلی چٹان ہوتی اور اس پر مٹی بھی نہ ہوتی تو کوئی شخص اس پر دونوں ہاتھ مارکر اپنے منہ پر پھیر لیتا تو اس کا تیمم و طہارت ہو جاتی۔اس ارشادِ الٰہی کے