کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 194
خَرَجَتْ خَطَایَا قَدَمَیْہِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِہٖ مَع الْمَآئِ ’’تم میں سے کوئی شخص جب وضو کرنے لگتا ہے اور پھر کلی کرتا ہے،ناک میں پانی چڑھاتا ہے اور ناک جھاڑ کر صاف کرتا ہے تو اس کے منہ اور ناک کے تمام گناہ اس پانی کے ساتھ ہی بہہ جا تے ہیں،جس کے ساتھ منہ اور ناک کو صاف کیا ہوتا ہے۔پھر جب وہ اپنا منہ دھو تا ہے،جیسا کہ اللہ کا حکم ہے تو اس کی ڈاڑ ھی کے اطراف سے اس کے چہرے کی تمام خطائیں بھی پانی سے دھل جا تی ہیں۔پھر جب وہ اپنے دو نوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوتا ہے،تو ان دونوں ہاتھوں کے گناہ اس کی انگلیوں کے پَوروں کے راستے نکل جا تے ہیں،پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کی تمام خطائیں اس کے بالوں کے راستے پانی کے ساتھ ہی مٹ جا تی ہیں،پھر جب وہ حکمِ الٰہی کے مطابق دو نوں پاؤں کو ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کی تمام خطائیں پاؤں کی انگلیوں کے راستے پانی کے ساتھ ہی بہہ جا تی ہیں۔‘‘ اسی حدیث میں آگے یہ بھی مذکور ہے کہ جب کو ئی شخص مسنون طریقے سے وضو کر کے اللہ کے حضور کھڑ ے ہو کر دو رکعت نماز ’’تحیۃ الوضوء‘‘ ادا کرتا ہے تو اس کی یہ حالت ہوتی ہے: ﴿خَرَجَ مِنْ ذَنْبِہٖ کَھَیْئَتِہٖ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہٗ [1] ’’وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے،گو یا آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو۔‘‘ جب کہ صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں اس بات کی وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ صغیرہ گناہوں سے پاک ہونا ہے،کیوں کہ اس حدیث میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے((إِذا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ﴾ کی شرط بھی عائد فرمائی ہے کہ ’’اگر وہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے والاہو۔‘‘ تو صغیرہ گناہوں کا یوں کفارہ ہو جا ئے گا اور بقول قاضی عیاض رحمہ اللہ تمام اہلِ سنت کا مذہب یہی ہے کہ کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے اور مذکورہ بخشش سے صغیرہ گناہوں کی بخشش مراد ہے۔[2] [1] الفتح الرباني(1/ 299۔200) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث(143) [2] فتح الباري(1/ 260۔261) الفتح الرباني ترتیب مسند أحمد(1/ 200)