کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 182
اس روایت کی سند میں تو تابعی اور ان سے روایت کرنے والے دو راوی مجہول ہیں،لہٰذا اس کی سند تو ضعیف ٹھہری،البتہ یہ انداز طبی طور پر مفید ہے،کیوں کہ امام ابن قدامہ لکھتے ہیں: ’’اس طرح قضاے حاجت میں آسانی رہتی ہے اور زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ(زیادہ دیر بیٹھنا) بواسیر کا سبب بنتا ہے اور اس میں بعض دیگر طبی نقصانات بھی پائے جاتے ہیں،لہٰذا مذکورہ انداز ہی مفیدِ مطلب ہے۔یہی انداز امام ابن المنذر نے ’’الأوسط‘‘ میں بھی ذکر کیا ہے۔‘‘[1] [1] المغني لابن قدامۃ(1/ 159)