کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 169
اجر و ثواب اور فضیلت حاصل نہیں ہوگی،جو مسنون طریقے سے غسل کرنے پر حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اس مسنون طریقے کو ’’غسلِ عبادت‘‘ بھی کہا جاسکتا ہے۔ان دونوں میں باہم کوئی فرق بھی نہیں،کیوں کہ پہلے سے بھی صفائی ستھرائی اور ٹھنڈ ک حاصل ہوتی ہے اور دوسرے سے بھی،پہلے میں بھی سرد یا گرم پانی اور صابن و شیمپو استعمال ہوتا ہے اور دوسرے میں بھی،مگر پہلا عادت اور دوسرا عبادت،پہلا محض دنیا اور دوسرا دین ہے،مگر پہلا خرما ہے تو دوسرا ہم خرما وہم ثواب ہے۔ اس فرق کی وجہ صرف اتنی سی ہے کہ جب بھی کوئی شخص غسل کر نے لگے تو اسے(وہ غسل فرض و واجب یا مسنون ومستحب) ہر شکل میں مسنون طریقے کو اختیار کر نا چاہیے اور اس تصور کے آجانے سے جہاں آپ طبی و دنیاوی فوائد سے بہرہ ور ہوں گے،وہیں اس کے دینی و روحانی ثمرات بھی سمیٹیں گے اور اتباعِ سنت کا اجر و ثواب بھی پائیں گے۔لہٰذا آئیے دیکھیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسنون طریقہ غسل کیا تھا؟ صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ﴿کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ،یَبْدَأُ فَیَغْسِل یَدَیْہِ ثُمَّ یُفْرِغُ بِیَمِیْنِہٖ عَلَی شِمَالِہٖ فَیَغْسِل فَرْجَہُ،ثُمَّ یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہٗ لِلصَّلَوٰۃِ ثُمَّ یَأْخُذُ الْمَآئَ فَیُدْخِلُ أَصَابِعَہ فِیْ أُصُوْلِ الشَّعَرِ حَتَّیٰ اِذَا رَأَی أَنْ قَدِ اسْتَبْرَأَ حَفَنَ عَلَیٰ رَأْسِہٖ ثَلَاثَ حَفنْاَت،ثُمَّ أَفَاضَ عَلَیٰ سَائِرِ جَسَدِہٖ،ثُمَّ غَسلَ رِجْلَیْہ [1] ’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب غسلِ جنابت فرماتے تو پہلے اپنے دو نوں ہاتھوں کو دھو لیتے۔پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر مقامِ استنجاکو دھو تے۔پھر اسی طرح وضو فرماتے،جس طرح نماز کے لیے وضو کیا جاتا ہے۔پھر پانی لیتے اور بالوں کی جڑوں میں انگلیال ڈال کر وہاں پانی پہنچاتے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم محسوس فرما لیتے کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ گیا ہے تو پھر پانی کے تین چلّو بھر کر اپنے سرپر ڈالتے۔اس کے بعد باقی سارے جسم پر پانی بہاتے تھے اور اس کے بعد اپنے دونوں پاؤں دھوتے تھے۔‘‘ [1] صحیح البخاري،رقم الحدیث(248) صحیح مسلم مع شرح النووي(2/ 3/ 228 دار الفکر بیروت) صحیح سنن أبي داود(222) صحیح سنن النسائي(241) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث(91)