کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 146
ہونے کی طرف ہی ہے۔جبکہ زیادہ صحیح وہی ہے جو جمہور کا مسلک ہے کہ کتّے کا جُھوٹا ناپاک ہے،جو سات مرتبہ دھونے کے حکم ہی سے معلوم ہو رہا ہے۔امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کتّے کے جھُوٹے کو سات مرتبہ دھونا ضُروری نہیں،بلکہ صرف تین مرتبہ دھو لینا ہی کافی ہے۔مگر یہ تین مرتبہ والا قول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہے اور قولِ رسُول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کِسی دُوسرے کا قول معتبر نہیں ہوتا۔[1]لہٰذا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی یہ بات بھی حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
[1] تفصیل کے لیے محلی ابن حزم،فتح الباري،نیل الأوطار،المغني اور تحفۃ الأحوذي کا مطالعہ فرمائیں اور قولِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ’’نصب الرایۃ‘‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔