کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد1) - صفحہ 121
عدمِ موالات کے حکم میں شدت کا سبب: جس انسان کو اپنی زندگی کے مقصد کا ادراک ہو جائے اور اسے پتا چل جائے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اطاعت و عبادت کا مطالبہ کیا ہے تو پھر اس کی تمام حرکات و سکنات،اس کے تمام افعال و اعمال اور اس کے تمام تعلقات حکمِ الٰہی کے تابع ہو جاتے ہیں،جن سے وہ سرِمو ا نحراف کرنا بھی گناہ سمجھتا ہے۔ اللہ کے ایسے بندوں کی دُوسرے لوگوں سے دوستی و محبت یا بُغض وعداوت بھی خالص منشاے الٰہی کے تابع ہوتی ہے۔وہ نہ اپنی ذات کے نفع و نقصان کی خاطر کِسی سے پیار کرتا ہے اور نہ ذاتی انتقام کے جذبے سے مغلوب ہو کر کِسی سے دشمنی یا نفرت رکھتا ہے۔اس کی نفرت و محبت کا پیمانہ صرف رضاے الٰہی ہوتا ہے اور جس شخص میں یہ وصف پَیدا ہو جائے،رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ حق شناس میں وہی کامل الایمان شخص ہوتا ہے،جیسا کہ ابو داود شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿مَنْ أَحَبَّ لِلّٰهِ وَأَبْغَضَ لِلّٰهِ فَقَدْ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَک)) [1] ’’جس شخص نے اپنی دوستی و دشمنی کو صرف اللہ تعالیٰ کی منشا کے تابع کر دیا،اُس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے،جب انسان اپنی محبت و دوستی اور نفرت ودشمنی کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے تابع کر دے۔اس لیے مومن کی موالات اور دلی محبت صرف اسی شخص کے لیے ہوسکتی ہے،جو اس مقصد کا ساتھی اور اللہ کا تابع فرمان ہو اور جو شخص اس مقصد کا متلاشی نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر مُصِرّ ہو تو پھر اُس سے وہی شخص دوستی کر سکتا ہے،جو اُسی جیسا ہوگا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے کفّار کے ساتھ موالات کا تعلق رکھنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿وَ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ﴾[المائدۃ: 51] ’’تم میں سے جس نے اُن(اللہ کے نا فرمان یہُود ونصاریٰ) کے ساتھ دلی تعلّق رکھا تو [1] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث(3951) صحیح الجامع،رقم الحدیث(5965) اور اس میں((مَنْ أَعْطیٰ ﷲِ وَمَنَعَ ﷲِ )) کے الفاظ بھی ہیں کہ جس نے اللہ کے لیے دیا اور اُسی کی خاطر روکا۔السلسلۃ الصحیحۃ،رقم الحدیث(380)