کتاب: فقہ السنہ - صفحہ 98
موزوں پر مسح کرسکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جی ہاں لیکن جب اس نے موزے اس حالت میں پہنے ہوں کہ پاؤں پاک تھے۔‘‘ اور فقہاء نے جو یہ شرط عائد کی ہے کہ موزے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس جگہ دھونا کو دھونا ضروری ہو اسے ڈھانپا ہوا ہو۔ اور وہ بذات خود یعنی بغیر باندھے جسم پر چپکا رہے، نیز اس میں چلنا بھی ممکن ہو، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان شرائط کو اپنے فتاوی میں کم زور قرار دیا ہے۔ مسح کی جگہ: احکام شریعت میں لغت کی کیا اہمیت ہے؟ کیا آپ لغت سے ثابت تین احکام شریعت کی نشاندہی کرسکتے ہیں ۔ مسح میں مشروع جگہ موزے کا اوپر والا حصہ ہے۔ کیونکہ مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کے اوپر مسح کیا۔‘‘ اس روایت کو احمد، ابو داؤد اور ترمذی نے بیان کیا ہے اور اسے حسن قرار دیا ہے۔ علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ’’ اگر دین کا مدار صرف رائے پر ہوتا تو موزے کا نیچے والا حصہ اس کے اوپر والے حصے کی بنسبت مسح کا زیادہ مستحق تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزے کے اوپر والے حصہ پر مسح کررہے تھے۔‘‘ اس روایت کو ابو داؤد اور دار قطنی نے بیان کیا ہے۔ اور اس کی سند حسن یا صحیح ہے۔ اور مسح کے حوالے سے ضروری چیز یہ ہے کہ جس پر لغوی اعتبار سے لفظ مسح بولا جاسکے(ایسا کرنا درست قرار پائے گا۔)، بغیر کسی حد بندی کے، اور اس کی حد بندی کے حوالے س ے کوئی چیز صحیح طور پر ثابت نہیں ہے۔ مسح کا وقت: مقیم کے لیے مسح کی مدت ایک دن اور رات ہے۔ اور مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتیں ۔ صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ’’ ہمیں حکم دیا گیا (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) کہ جب ہم نے موزے پاکی کی حالت میں پہنے ہوں اور ہم سفر بھی کررہے ہوں تو تین دن ان پر مسح کرسکتے ہیں ، اور جب ہم مقیم ہوں تو پھر ایک دن اور رات۔ اور ہم انھیں