کتاب: فقہ السنہ - صفحہ 66
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا تو انہیں ہر وضو کے وقت مسواک کا حکم دے دیتا۔‘‘ اسے مالک، شافعی، بیہقی اور حاکم نے بیان کیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ مسواک منہ کو پاک کرنے اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔‘‘ رواہ احمد والنسائی
مصنف ان پانچ اوقات میں مسواک کو بہت زیادہ اہمیت والا کیوں قرار دے رہے ہیں ؟
یوں تو مسواک جب بھی کی جائے پسندیدہ ہے لیکن پانچ اوقات میں یہ بہت زیادہ پسندیدہ عمل قرار پاتا ہے: (۱) وضو کے وقت ۔ (۲) نماز کے وقت۔ (۳) قرآن مجید کی قرات کرتے ہوئے۔ (۴) سونے سے بیدار ہوکر۔ (۵) اور منہ کا ذائقہ بدل جائے۔ روزے دار اور بنا روزے والا اس کے استعمال میں دن کا شروع ہو یا آخر برابر ہیں ۔ اس کی دلیل عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے شمار دفعہ دیکھا کہ آپ روزے سے ہوتے ہوئے مسواک کرتے تھے۔‘‘ رواہ احمد وابو داؤد والترمذی۔ اور جب مسواک استعمال کی جائے تونظافت کی خاطر اسے استعمال کرنے کے بعد دھونا سنت ہے۔ اس کی دلیل عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت ہے، فرماتی ہیں کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کیا کرتے اور مجھے پکڑا دیتے تاکہ اسے دھو دوں ۔ تو میں اس کے ساتھ مسواک کرنے لگتی پھر اسے دھو کر آپ کو پکڑا دیتی۔‘‘ رواہ ابو داؤد والبیہقی۔ جس شخص کے دانت نہ ہوں اس کے لیے انگلی سے مسواک کرنا مسنون ہے کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ ’’ اے اللہ کے ر سول! وہ شخص جس کے دانت ختم ہوجائیں کیا وہ مسواک کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ہاں ‘‘ میں نے دریافت کیا کہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’ اپنے منہ میں انگلی ڈال کر۔‘‘ رواہ الطبرانی
۳۔ وضو کے شروع میں تین دفعہ ہتھیلیوں کو دھونا:
کیونکہ اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ’’ میں نے رسول اللہ